Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Iqdaam natija qayz hona chahiye.

Urdu · 2 min

اقدام نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ بنی اسرائیل کے اندر پیش آنے والے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے زمانے میں پیش آیا۔ قرآن کے مطابق ایسا ہوا کہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے اوپر حضرت ہارون کو ذمہ دار بنا کر کچھ دنوں کے لیے کوہ طور پر چلے گئے۔ اس دوران بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون نے انہیں روکا، مگر قوم کی طرف سے شدت دیکھ کر وہ اس معاملے میں خاموش ہو گئے۔ مگر جب حضرت موسیٰ واپس آئے تو انہوں نے اس مصنوعی بچھڑے کو توڑ کر پھینک دیا اور مجرمین کو سزا دی۔ سورہ الاعراف سورہ طہ یہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے عمل میں یہ فرق کیوں تھا۔ کیا وجہ ہے کہ حضرت ہارون نے کھلے ہوئے شرک کے ایک معاملے کو عملاً برداشت کیا، جبکہ حضرت موسیٰ نے اس کو توڑ کر اور جلا کر ختم کر دیا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ہارون نے غور و فکر کے بعد یہ جانا کہ اگر وہ عملی اقدام کرتے ہیں تو ایک گروہ ان کا ساتھ دے گا اور دوسرا گروہ بچھڑا پوجنے والوں کے ساتھ رہے گا۔ اس طرح قوم دو گروہوں میں بٹ کر باہمی لڑائی شروع کر دے گی۔ مگر حضرت موسیٰ کے عمل کی صورت میں یہ اندیشہ نہ تھا۔ حضرت موسیٰ کو قوم میں غالب حیثیت حاصل تھی۔

اس بنا پر یہ ممکن تھا کہ وہ قوم میں جس فیصلے کو چاہے نافذ کرے۔ اس واقعے پر غور کرنے کے بعد یہ اصول ملتا ہے کہ عمل کو ہمیشہ نتیجہ رخی یعنی رزلٹ اورینٹڈ ہونا چاہیے۔ اگر عملی اقدام نہیں کرنے سے نتیجہ مطلوب صورت میں نکلنے والا ہو تو عملی اقدام کیا جائے گا، اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ عملی اقدام سے حالات بگڑ جائیں گے اور ایک برائی کی جگہ دو برائی پیدا ہو جائے گی تو عملی اقدام نہ کیا جائے گا۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 132۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.