Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Amali tariqa.

Urdu · 3 min

عملی طریقہ: ایک مسلمان طالب علم سے ملاقات ہوئی، ان کے سر کے بال منڈے ہوئے تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ جس مدرسے میں پڑھتے ہیں، ان کے ناظم نے ان کے اور دوسرے طالب علموں کے سر کے بال منڈوا دیے ہیں۔ ناظم صاحب نے وجہ یہ بتائی کہ "مجھ کو بڑے بڑے بال اچھے نہیں لگتے"۔ میں نے پوچھا کہ جن طلبہ کے سر کے بال منڈوائے گئے، انہوں نے کچھ احتجاج وغیرہ کیا؟

مذکورہ طالب علم نے بتایا کہ نہیں۔ طلبہ نے اس کو بہت برا مانا، لیکن وہ اس پر خاموش رہے، اس لیے کہ اگر وہ احتجاج کرتے تو مدرسے سے ان کا اخراج کر دیا جاتا۔ اصولی اعتبار سے دیکھا جائے تو ناظم صاحب کا طلبہ کے سر کے بال منڈوانا طلبہ کے لیے ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا، مگر ان طلبہ نے ایسا نہیں کیا کہ وہ بال منڈوانے کے معاملے کو اصولی اور نظری معیار پر جانچیں۔ بلکہ وہ سب اس معاملے میں عملی، یعنی پریکٹیکل، بن گئے۔

ایک معاملہ جو نظری بنیاد پر قابلِ قبول نہ تھا، اس کو انہوں نے عملی بنیاد پر قبول کر لیا۔ غور کیجیے تو ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں یہی کرتا ہے: وہ معاملے کے نظری پہلو پر اصرار نہ کرتے ہوئے بھی عملی بنیاد پر اس کو ماننے کے لیے راضی ہو جاتا ہے۔ مگر انہی افراد کا حال یہ ہے کہ جب معاملہ قومی اور ملی ہو تو وہ فوراً اس کو نظری اور اصولی اعتبار سے جانچنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ عملی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلے کو ختم کر دیں۔

لوگوں میں یہ تضاد کیوں ہے کہ وہ اپنے انفرادی معاملے میں حقیقت پسند ہوتے ہیں، اور جب ملت کا معاملہ ہو تو وہ غیر حقیقت پسند بن جاتے ہیں؟ اس کا سبب لوگوں میں ذہنی بیداری کا نہ ہونا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ذاتی معاملے میں آدمی اس کے نفع اور نقصان کو خود بھگت رہا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کسی سوچ کے بغیر صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر صحیح رائے تک پہنچ جاتا ہے۔

ذاتی معاملے میں رائے قائم کرنے کے لیے سوچنے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ذاتی تجربے کی تلخی اور شیرینی اس کا رویہ متعین کرنے کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔ یہ عین وہی معاملہ ہے جو ہر حیوان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر حیوان اپنے ذاتی معاملے میں جان لیتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے، مگر دوسرے کے معاملے میں وہ اس کو جان نہیں پاتا، کیونکہ دوسرے کے معاملے کو جاننے کے لیے فہم درکار ہے جو کہ حیوان میں نہیں ہوتی۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کے درمیان کوئی ایسی تحریک نہیں اٹھی جو ان کے اندر ذہنی بیداری پیدا کرے، جو فنِ تفکیر یعنی آرٹ آف تھنکنگ کے اصولوں کی روشنی میں ان کی ذہنی تربیت کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کی مسلم نسلیں فکری ارتقاء سے محروم ہیں۔ لوگ بس حیوانی سطح پر جی رہے ہیں۔ ذہنی ارتقاء یا فکری عمل، یعنی تھنکنگ پروسیس، کی انہیں خبر ہی نہیں۔

کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 131۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.