Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Sabaq lena,na ke sabaq sikhana.

Urdu · 2 min

سبق لینا، نہ کہ سبق سکھانا۔ 1947 سے 1971 تک بنگلہ دیش کا نام مشرقی پاکستان تھا، اس وقت وہ پاکستان کا مشرقی حصہ تھا۔ 1971 میں بنگلہ دیش کے لوگوں نے پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کر دی۔ اس جنگ میں انڈیا نے بنگلہ دیشیوں کا ساتھ دیا۔

اس طرح انڈیا کی فوجی مدد کے ذریعے مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش کے نام سے ایک مستقل ملک بن گیا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان کے لیڈروں نے کہا کہ ہم انڈیا سے انتقام لیں گے۔ وہ انڈیا پر براہِ راست حملہ نہیں کر سکتے تھے، چنانچہ انہوں نے کشمیر اور پنجاب میں اپنی خفیہ مدد کے ذریعے پراکسی وار چھیڑ دی۔ یہ پراکسی وار صرف پاکستان کی مزید تباہی کا ذریعہ بنی۔

اس معاملے میں پاکستان کے لیے سبق سکھانے کی پالیسی درست نہ تھی۔ اس کے لیے زیادہ صحیح پالیسی سبق لینے کی تھی۔ پاکستان کو 1971 کے واقعے سے یہ سبق لینا چاہیے تھا کہ بنگلہ دیش کا نام مشرقی پاکستان رکھ کر اس کو ایک ملک کی حیثیت سے پاکستان کا حصہ قرار دینا ایک غیر حقیقت پسندانہ سیاست تھی جو عملاً چلنے والی نہ تھی۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی علیحدگی اپنی حقیقت کے اعتبار سے انڈیا کی مداخلت کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ وہ ایک غیر حقیقت پسندانہ سیاست کا فطری انجام تھا جو اپنے وقت پر پیش آیا۔

مگر پاکستانی لیڈروں کے ذہن میں سبق سکھانے کا تصور اتنا زیادہ چھایا ہوا تھا کہ اس واقعے سے وہ اصل مطلوب سبق نہ لے سکے۔ چنانچہ اس کے بعد بھی وہ بار بار نہایت سنگین قسم کی غیر حقیقت پسندانہ سیاست میں مبتلا ہوئے اور اس کے بھیانک انجام سے دوچار ہوتے رہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان میں جنگجوؤں کی پرورش ہے جو انہوں نے عظیم تر پاکستان کے خیالی تصور کو واقعہ بنانے کے لیے کی۔ اگرچہ اس کا بھی فطری انجام یہی ہوا کہ پاکستان ہر اعتبار سے ایک دیوالیہ ملک بن کر رہ گیا۔

کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 130۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.