← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Tameem ki ghalati.
Urdu · 4 min
تعمیم کی غلطی سوچ کی غلطی کی ایک صورت وہ ہے جس کو تعمیم، یعنی جنرلائزیشن، کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک استثنائی مثال کو لے کر اس کو عمومی شکل دینا اور اس سے کلی رائے بنانا۔ تعمیم کی غلطی اتنی زیادہ عام ہے کہ بہت کم لوگ اس سے بچے ہوئے نظر آئیں گے۔ مثلاً بائبل، یعنی نیا عہد نامہ میں— مثلاً بائبل، یعنی نیا عہد نامے میں ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا: "یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں، صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں۔
" Do not think that I came to bring peace on earth; I did not come to bring peace, but a sword. میتھیو، باب 10، آیت 29۔ حضرت مسیح کا یہ قول ان کے پورے کلام میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے زیادہ تر اقوال محبت اور اخلاق جیسی تعلیمات پر مبنی ہیں۔
ایسی حالت میں مذکورہ قول کو لے کر یہ کہنا کہ حضرت مسیح کا مشن تلوار چلانا تھا، ایک استثنا کو عموم کا درجہ دینا ہوگا۔ یہ ایک غلط تعمیم ہوگی جو علمی اعتبار سے قابلِ قبول نہیں۔ اسی قسم کی غلط تعمیم قرآن کے بارے میں بھی کی گئی ہے۔ قرآن سے قتال کی بعض آیتوں کو لے کر کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن جنگ و قتال کی کتاب ہے، حالانکہ یہ ایک کھلی ہوئی غلط تعمیم ہے۔
قرآن کی 99% سے زیادہ آیتیں وہ ہیں جو امن اور انسانیت جیسے مثبت موضوعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ 1% سے بھی کم آیتیں وہ ہیں جو کھلی ہوئی جارحیت کی صورت میں دفاع کے احکام بتاتی ہیں۔ ایسی حالت میں چند آیتوں کو لے کر یہ کہنا کہ یہی قرآن کی عمومی تعلیم ہے، سراسر غلط ہے اور علمی اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے۔ تعمیم کی یہ فکری برائی ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔
لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ جس آدمی سے وہ خوش ہوں گے، اس کی کچھ خوبیوں کو لے کر اس کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کریں گے۔ وہ انہی چند خوبیوں کی بنیاد پر اپنے محبوب کی مکمل تصویر بنائیں گے۔ اس کے برعکس، جس آدمی سے وہ ناخوش ہوں، اس کی خوبیوں کو وہ نظرانداز کریں گے، وہ ڈھونڈ کر اس کی کچھ برائیاں نکالیں گے، اور ان برائیوں کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کر کے یہ تاثر دیں گے کہ یہی ان کے مبغوض آدمی کی مکمل تصویر ہے۔ تعمیم کی یہ دونوں ہی صورتیں سراسر غلط ہیں۔
یہ طریقہ غیر علمی بھی ہے اور اخلاق اور انصاف کے خلاف بھی۔ جس معاشرے میں تعمیم کا یہ طریقہ رائج ہو جائے، وہاں ہر آدمی کی تصویر مصنوعی بن جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں ایسی رائے قائم کریں گے جن کا حقیقتِ واقعہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ راقب الحروف کو بھی اپنے دعوتی مشن میں اس قسم کی غلط تعمیم کا تجربہ ہوا ہے۔
مثلاً کچھ لوگ میرے بارے میں یہ مشہور کرتے ہیں کہ "ان کو تو بس ایک بات اسلام میں ملی ہے، صلح حدیبیہ"، حالانکہ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ میری 200 سے زیادہ کتابیں ہیں اور ہزاروں سے زیادہ مقالات اور مضامین چھپ چکے ہیں۔ کوئی شخص ان میں دیکھ سکتا ہے کہ میری ان تحریروں میں صلح حدیبیہ کی بات 1% سے بھی کم ہے۔ اسلام کی دوسری تعلیمات اور وقت کے مسائل کا اسلامی جواب جیسے مضامین سے میری تحریریں بھری ہوئی ہیں۔
مگر خود ساختہ تعمیم کے ذریعے یہ غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ "مجھے تو سارے قرآن و حدیث میں صرف ایک چیز ملی ہے، صلح"۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں، ان کا معاملہ بلاشبہ غیر علمی بھی ہے اور دیانت کے خلاف بھی۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 128۔