← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Ideal ya practical.
Urdu · 4 min
آئیڈیل یا پریکٹیکل؟ اکثر لوگ صرف اس لیے نقصان اٹھاتے ہیں کہ وہ آئیڈیل اور پریکٹیکل میں فرق نہیں کرتے۔ وہ چیزوں کو آئیڈیل کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں، اور جب وہ ان کے آئیڈیل پر پورا نہیں اترتا تو وہ ان کو رد کر دیتے ہیں۔ مگر یہ سراسر نادانی کی بات ہے۔
موجودہ دنیا میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو آئیڈیل ملے؛ بیشتر حالات میں اس دنیا میں پریکٹیکل پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ یہ کوئی کم ہمتی کی بات نہیں، یہ فطرت کا قانون ہے، اور اس دنیا میں فطرت کے قانون کو قبول کرنا پڑتا ہے، نہ کہ اس سے ٹکرانا۔ یہ اصول انفرادی زندگی کے لیے بھی کارآمد ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو نئے انقلابی تصورات دنیا میں رائج ہوئے، ان میں سے ایک وہ تھا جس کو سیکولرزم کہا جاتا ہے۔
یہ نیا سیاسی نظریہ جب دنیا میں آیا تو موجودہ زمانے کے اسلام پسند رہنماؤں نے اس کو رد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرزم اسلام کے خلاف ہے، بلکہ وہ اسلام سے اصولی بغاوت ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر انہوں نے سیکولرزم کا ترجمہ لادینیت کیا، حالانکہ یہ ترجمہ ہرگز درست نہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلم ملکوں میں ہر جگہ مغربی طرز پر تعلیم پائے ہوئے لوگ حکومت کر رہے تھے۔
وہ سیکولر نظامِ حکومت کے حامی تھے۔ اس بنا پر تمام اسلام پسندوں نے ان کے خلاف نظری اور عملی جنگ چھیڑ دی۔ ہر مسلم ملک کے مسلمان سیکولر طبقہ اور اسلام پسند طبقے میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔ اس بے فائدہ جنگ میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ نقصان پہنچا جو پوری مسلم تاریخ میں شاید مسلمانوں کو نہیں پہنچا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ سیکولرزم کا مطلب لامذہبیت نہیں، بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے۔
یہ سیکولرزم اسلام اور اہلِ اسلام کے حق میں انتہائی مفید تھا۔ وہ لوگوں کو یہ موقع دے رہا تھا کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں قسم کے ملکوں میں یکساں طور پر اسلام کے مقاصد کے لیے عمل کیا جا سکے: مدارس و مساجد کی تنظیم، تعمیری اداروں کا قیام، تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ۔ اس قسم کے تمام شعبے مکمل طور پر اہلِ اسلام کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ وہ ان کو استعمال کر کے ہر ملک میں اسلام کا ایمپائر بنا سکتے تھے۔
یہ ایمپائر اگرچہ غیر سیاسی ہوتا، مگر وہ بالواسطہ انداز میں سیاسی نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا تھا۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنما سیکولرزم کو آئیڈیل کے معیار پر جانچ کر اس کے دشمن بنے رہے، حالانکہ اگر وہ عملی یعنی پریکٹیکل بنیاد پر اس کو دیکھتے تو وہ اس کو خدا کی ایک نعمت سمجھتے اور ایک عظیم موقع کی حیثیت سے اس کو استعمال کرتے۔ اس معاملے کا ایک اور، اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان ہے۔ سیکولرزم کو لادینی اور طاغوتی نظریہ قرار دے کر اس سے لڑنا سراسر غیر حقیقت پسندانہ تھا۔
وہ فطرت کے نظام کے خلاف تھا۔ وہ پریکٹیکل بنیاد پر چلنے والی، دنیا میں آئیڈیل بنیاد پر زندگی گزارنے کا غیر عملی پروگرام تھا۔ اس لیے وہ فطری طور پر ناکام ہو گیا۔ اب یہی لوگ عملاً ساری دنیا میں عین اسی سیکولر نظام کے تحت پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، جس کو انہوں نے اس سے پہلے غیر اسلامی قرار دے کر رد کر دیا تھا، اور اس کے تحت زندگی گزارنے کو ناجائز بتایا تھا۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس سیکولرزم کو وہ اصولی طور پر اختیار نہ کر سکے تھے، اس کو انہوں نے منافقانہ طور پر اختیار کر لیا۔ دو عملی کی یہ روش بلاشبہ تمام برائیوں میں سب سے زیادہ بڑی برائی ہے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 119۔