← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Zahni sukun.
Urdu · 8 min
ذہنی سکون۔ موجودہ زمانے کا شاید سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج کسی بھی انسان کو ذہنی سکون حاصل نہیں۔ تقریباً ہر آدمی ذہنی تناؤ اور فکری الجھن میں مبتلا ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سامان والا ہو یا بے سرو سامان والا۔ پچھلے سال بنگلور کے ایک کمپیوٹر انجینئر کو اس کی ایک ایجاد پر امریکہ کی طرف سے 750 ملین ڈالر اچانک مل گئے، مگر اس غیر معمولی دولت نے اس کو ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا، یہاں تک کہ صرف 1 سال کے اندر اس کا یہ حال ہوا کہ اس کی نیند ختم ہو گئی اور رات کے وقت وہ نیند کی گولیاں کھا کر سونے لگا۔
موجودہ دنیا کے بیشتر لوگوں کا حال کم و بیش یہی ہے، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے۔ اس مسئلے کا عام طور پر دو حل بتایا جاتا ہے: ایک یہ کہ زیادہ سے زیادہ دولت کماؤ تاکہ زیادہ سے زیادہ راحت کے سامان حاصل کر سکو، مگر تجربہ واضح طور پر اس کی تردید کرتا ہے۔ موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے بے شمار دولت کمائی اور راحت اور آرام کے تمام سامان اپنے پاس اکٹھا کر لیے، مگر ان سب کے باوجود وہ سکون اور چین سے محروم رہے، یہاں تک کہ وہ مر کر اس دنیا سے چلے گئے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے معیار پسند، یعنی پرفیکشنسٹ ہے، جبکہ موجودہ دنیا ہر اعتبار سے غیر معیاری، یعنی امپرفیکٹ ہے۔
اس صورتحال نے انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک تضاد پیدا کر دیا ہے۔ اسی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی انسان ہر قسم کے دنیاوی سامان کو حاصل کرنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتا۔ دنیا کی ہر چیز اس کو اپنے ذہنی معیار سے کم تر معلوم ہوتی ہے، اس لیے وہ ان کو پا کر بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ بظاہر راحت کے سامان کے درمیان بھی وہ ہمیشہ ایک قسم کے غیر شعوری عدم اطمینان میں مبتلا رہتا ہے۔
فطرت کا یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ دنیاوی راحت کے سامانوں میں ذہنی سکون تلاش کرنا ایک ایسا بے سود عمل ہے جو کبھی کارآمد بننے والا ہی نہیں۔ دوسرا حل وہ ہے جو خاص طور سے یوگا کے مبلغین کی طرف سے بتایا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت سے میڈیٹیشن سینٹر قائم کیے ہیں۔ یہاں دھیان اور میڈیٹیشن کے ذریعے لوگوں کو ذہنی سکون کی تربیت دی جاتی ہے۔
ان کا طریقہ یہ ہے کہ مخصوص مراقبے کے ذریعے انسانی ذہن میں سوچ کے عمل کو معطل کر دیا جائے، تاکہ وہ پریشانی کو شعوری طور پر محسوس کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ مگر اس قسم کا ذہنی سکون حقیقتاً ذہنی تقدیر، یعنی مینٹل انستھیزیا، کے ہم معنی ہے۔ یہ انسان کی اعلیٰ فکری صلاحیت کو کند کر کے اس کو بے حس حیوان کی سطح پر پہنچا دینا ہے۔ اس قسم کا ذہنی سکون اگر بالفرض حاصل بھی ہو جائے، تب بھی وہ یقینی طور پر غیر مطلوب چیز ہے۔
کیونکہ جو چیز انسان کی اعلیٰ فکری صلاحیت کو دبا دے، وہ گویا انسان کو کوما کی حالت میں پہنچانا ہے۔ ایسی ذہنی سکون انسانی موت ہے۔ ایسا ذہنی سکون انسانی موت ہے، نہ کہ انسانی زندگی۔ میڈیٹیشن کا یہ طریقہ فطرت کے نظام کی تردید ہے۔
فطرت نے انسان کو جو سب سے اعلیٰ چیز دی ہے، وہ اس کا دماغ، یعنی مائنڈ ہے۔ فطرت کے نقشے کے مطابق دماغ کے لیے پریشانیوں کا پیش آنا کوئی برائی کی بات نہیں۔ یہ دراصل زحمت میں رحمت، یعنی بلیسنگ ان ڈسگائز ہے۔ فطرت نے انسان کی ذہنی ترقی کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کا طریقہ رکھا ہے۔
ایسی حالت میں شاک ٹریٹمنٹ کے عمل کو ختم کرنا انسان کے لیے اس کی ذہنی ترقی کے دروازے کو بند کرنا ہے۔ اس اعتبار سے یہ طریقہ فطرت کے نظام کے خلاف ہے۔ اور جو چیز فطرت کے نظام کے خلاف ہو، وہ اپنے آپ قابلِ رد ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی پریشانی، یعنی مینٹل ٹینشن کے مسئلے کا حل ذہنی پریشانی کو ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کو مینج کرنا ہے۔
فکری تدبیر کے ذریعے اس کو اس طرح غیر مؤثر کر دینا ہے کہ وہ عملاً تو انسان کے لیے پیش آئے، مگر وہ انسان کے ذہنی سکون کو برہم، یعنی ڈسٹرب نہ کر سکے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ دہلی میں ایک 30 سالہ نوجوان ہیں جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مینیجر ہیں۔ ان کو وہاں 75,000 روپے مہینہ ملتا ہے اور دوسری سہولتیں حاصل ہیں۔
مگر چونکہ ان کمپنیوں میں ہائر اینڈ فائر کا اصول ہے، اس لیے وہ ہمیشہ ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہمیشہ سروس سے محرومی کا اندیشہ، یعنی فیئر آف لوزنگ جاب، ستاتا رہتا ہے۔ نہ دن کو سکون رہتا ہے اور نہ رات کو۔ میں نے انہیں سمجھایا اور کہا کہ میں آپ کو ایک فارمولا دیتا ہوں۔
اگر آپ اس کو پکڑ لیں تو آپ کا ذہنی سکون کبھی برہم ہونے والا نہیں۔ ایک شخص آپ کا روزگار چھین سکتا ہے، مگر وہ کبھی آپ کی قسمت کو آپ سے چھین نہیں سکتا۔ One can take away your job, but no one has the power to take away your destiny. مذکورہ نوجوان نے اس فارمولے کو پکڑ لیا۔
کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ ملے اور انہوں نے کہا کہ اب مجھے پوری طرح ذہنی سکون حاصل ہو گیا ہے۔ اب میں اطمینان کے ساتھ سوتا ہوں اور اطمینان کے ساتھ دن گزارتا ہوں۔ اسی طرح ہر آدمی اپنی ذہنی پریشانی کو مینج کر کے اس کو ڈیفیوز کر سکتا ہے۔ وہ ذہنی پریشانیوں کے باوجود ذہنی سکون کی زندگی حاصل کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اپنی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں سے محروم ہوا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا دماغ عطاہ صلاحیتوں کا خزانہ ہے۔ تمام ذہنی پریشانیوں کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرنا۔ اسی طرح تمام ذہنی پریشانیوں کا حل بھی صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروقت استعمال کر لینا۔ ایک بڑے شہر کے ایک تاجر ہیں۔
انہوں نے ایک سامان، یعنی پروڈکشن، تیار کیا۔ اس میں انہوں نے 50 لاکھ روپے لگا دیے۔ سامان جب تیار ہوا تو اس کے بعد اچانک مارکیٹ میں اس کی مانگ ختم ہو گئی۔ مجبوراً انہیں اپنے سامان کو گودام میں رکھ دینا پڑا۔
اس حادثے کا ان پر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ وہ بیمار پڑ گئے۔ ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا۔ راتوں کی نیند غائب ہو گئی۔ وہ اعصابی کمزوری کا شکار ہو گئے۔
ان سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں سمجھایا۔ میں نے کہا کہ آپ اس معاملے کو صرف حال، یعنی پریزنٹ کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آپ اپنی اس سوچ کو بدلیے اور معاملے کو مستقبل، یعنی فیوچر کے اعتبار سے دیکھنا شروع کر دیجیے۔ آپ سادہ طور پر صرف اتنا کیجیے کہ اس معاملے کو انتظار، یعنی ویٹ اینڈ سی کے خانے میں ڈال دیجیے۔
انہوں نے میری نصیحت پکڑ لی۔ اس کے تقریباً 2 سال بعد ان کا خط آیا جس میں انہوں نے خوشی کے ساتھ لکھا تھا کہ میرا تمام سامان نفع کے ساتھ فروخت ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کا انحصار سوچنے کے طریقے پر ہے۔ اگر آپ ایک طریقے سے سوچیں تو آپ کا ذہن ایک ڈھنگ کا بنے گا، اور اگر آپ دوسرے طریقے سے سوچیں تو آپ کا ذہن دوسرے ڈھنگ پر کام کرنے لگے گا۔
اس طرح ہر مایوسی کو اعتماد میں بدلا جا سکتا ہے، اور ہر پست ہمتی کو بلند ہمتی میں۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 116۔