Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Maqsad ki hifazat.

Urdu · 3 min

مقصد کی حفاظت۔ قرآن کی سورہ نمبر 22 میں ارشاد ہوا ہے: "اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک طریقہ مقرر کیا کہ وہ اس کی پیروی کرتے تھے"۔ پس وہ اس معاملے میں تم سے نزاع نہ کریں، اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو۔

سورہ الحج، آیت 67۔ "وہ تم سے نزاع نہ کریں" کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کو نزاع کا موقع نہ دو۔ فریق ثانی سے نزاع میں پڑنے کی قیمت یہ ہے کہ دعوت کا موضوع بدل جائے۔ اس کے برعکس، نزاع سے اعراض کا یہ فائدہ ہے کہ دعوت کا اصل نکتہ دونوں کے درمیان زیرِ بحث رہے۔

داعی کے مفاد میں یہ ہے کہ امرِ رب دونوں فریقوں کے درمیان مکالمہ یعنی ڈائیلاگ کا موضوع ہو، نہ کہ امرِ غیرِ رب۔ باہمی مکالمے کو اصل نکتے سے ہٹنے نہ دینا داعی کے مفاد میں ہے، اس لیے داعی کو یہ قیمت دینا ہے کہ وہ ایک طرفہ اعراض کے ذریعے اس موافق صورتحال کو برقرار رکھے۔ مولانا محمد الیاس صاحب، بانی تبلیغی جماعت۔ مولانا محمد الیاس صاحب، بانی تبلیغی جماعت، اپنی تحریک کے ابتدائی زمانے میں میوات گئے۔

ایک دیہاتی اپنے کھیت کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔ مولانا نے اس سے کلمہ پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ دیہاتی اس قسم کی بات سے مانوس نہ تھا۔ وہ غصہ ہو گیا اور مولانا کو دھکیل دیا۔

مولانا زمین پر گر پڑے۔ اس کے بعد مولانا خاموشی کے ساتھ دوبارہ اٹھے اور کسی بھی شکایت کے بغیر انہوں نے دیہاتی سے کہا کہ میں بھی کلمہ پڑھتا ہوں اور تم بھی اس کو دہراؤ۔ مولانا محمد الیاس صاحب کی یہ مثال مذکورہ معاملے کو اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ مولانا الیاس صاحب اگر مذکورہ دیہاتی کی غلط روش کی شکایت کرتے تو موضوعِ گفتگو بدل جاتا۔

انہوں نے اس کی اس روش کو یکسر نظرانداز کیا تاکہ دونوں کے درمیان صرف دین ہی موضوعِ بحث رہے، کوئی غیر متعلق چیز اس میں حائل نہ ہو سکے۔ اس طرح کے معاملے میں سوچنے کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ فریق ثانی کی زیادتیوں کو اہمیت دینا اور اس کے خلاف شکایت و احتجاج کرنا، اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کی زیادتی کو نظرانداز کیا جائے اور اس کو صبر و اعراض کے خانے میں ڈال دیا جائے۔ پہلی روش کا نقصان یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان موضوعِ بحث بدل جاتا ہے، جبکہ دوسرے طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ موضوعِ بحث کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا۔ اصل قابلِ بحث نکتہ ہی دونوں کے درمیان بلا انقطاع بحث کا موضوع بنا رہتا ہے۔

کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 120۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.