Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Ilm baghair marifat.

Urdu · 6 min

علم بغیر معرفت۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ البقرہ آیت 282۔ اس آیت میں علم سے مراد "فہم" ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر اللہ کا تقویٰ ہوگا، اس کا تقویٰ اس کے اندر فہمِ دین پیدا کرے گا۔ تفسیر القرطبی، جلد 3، صفحہ 406۔

اس سے معلوم ہوا کہ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کے اندر معلومات ہوں، مگر اس کے اندر حقیقی فہمِ دین نہ ہو۔ کیونکہ فہم و بصیرت کا سرچشمہ تقویٰ ہے، نہ کہ صرف معلومات۔ اسی لیے حدیث میں یہ دعا آئی ہے کہ اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع مسند احمد، الجزء الثانی، صفحہ 167۔ یعنی: اے اللہ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے: موجودہ زمانے میں پرجوش مسلمانوں نے مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے جو لڑائیاں چھیڑ رکھی ہیں، ان میں انہیں ایک طرفہ طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اب وہ شکست خوردہ نفسیات کے تحت خودکش بمباری، یعنی سوسائیڈ بمبنگ، کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ وہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر مفروضہ دشمن کے علاقوں میں داخل ہوتے ہیں، اور بم دھماکہ کر کے جان بوجھ کر خود بھی ہلاک ہوتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں۔ یہ واقعہ واضح طور پر خودکشی کا واقعہ ہے، اور خودکشی کو اسلام میں حرام موت قرار دیا گیا ہے۔

مگر کچھ علماء نے اس کو استشہاد یعنی طلبِ شہادت کا نام دیتے ہوئے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں دورِ صحابہ کے بعض واقعات سے استدلال کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ لوگ خلافتِ صدیقی کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہیں اور اس کو اپنے نظریے کے حق میں قطعی دلیل بناتے ہیں۔ مثلاً یہ لوگ خلافتِ صدیقی کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہیں اور اس کو اپنے نظریے کے حق میں قطعی دلیل بتاتے ہیں۔

یہ واقعہ ایک صحابی، البرائے ابن مالک خزرجی، وفات 20 ہجری کا ہے۔ ان کا یہ واقعہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کے زمانے میں پیش آیا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے زمانے میں مسیلمہ کذاب اور اس کے حامیوں، مسیلمہ کذاب اور اس کے حامی اہل یمامہ کے ساتھ جنگ پیش آئی۔ یہ جنگ حضرت خالد کی سرداری میں ہوئی تھی۔

اس جنگ کے آخری مرحلے میں ایسا ہوا کہ باغیوں کی یہ جماعت ایک فصیل بند باغ کے اندر داخل ہو گئی اور اس کے مضبوط دروازے کو اندر سے بند کر لیا۔ اس وقت صحابہ کی جماعت میں البرائے ابن مالک بھی تھے، جو اپنی بہادری کے لیے مشہور تھے۔ انہوں نے صحابہ سے کہا کہ تم لوگ مجھ کو ایک ڈھال پر بٹھاؤ اور ڈھال کو نیزوں کے ذریعے اوپر اٹھاؤ۔ اس طرح اٹھا کر مجھے دیوار کے اوپر تک پہنچا دو۔

چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب وہ دیوار کے اوپر پہنچے تو وہ وہاں سے کود کر نیچے اتر گئے۔ اندر کے لوگوں نے ان پر حملہ کیا، مگر وہ مقابلہ کرتے ہوئے باغ کے دروازے تک پہنچ گئے اور اس کو کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔ دروازہ کھلتے ہی صحابہ کی جماعت اندر داخل ہو گئی اور مسیلمہ کے ساتھیوں سے لڑ کر انہیں مغلوب کر لیا۔

البرائے ابن مالک کا یہ اقدام ایک جوکھم کا اقدام تھا۔ البرائے ابن مالک کا یہ اقدام ایک جوکھم کا اقدام تھا۔ اس میں جان کا خطرہ تھا۔ مگر البرائے ابن مالک کو باغی گروہ مارنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

وہ زندہ بچ کر باہر آ گئے۔ اس واقعے کے بعد وہ مزید 8 سال تک زندہ رہے اور پھر 20 ہجری میں ان کی طبعی وفات ہوئی۔ الْكَامِلُ فِي التَّارِيْخِ لِابْنِ أَثِيرِ جلد 2، صفحہ 364۔ الْبِدَاعِيَةُ وَالنِّهَايَةِ لِابْنِ كَثِيرِ جلد 6، صفحہ 268۔

الْأَعْلَامُ لِلزَّرْكُلِ جلد 2، صفحہ 47۔ ان دونوں میں شَتَّانَ مَا بَيْنَهُمَا یعنی there is a great difference between the two کا معاملہ ہے۔ البرائے ابن مالک نے جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر ایک اقدام کیا جس میں ان کے لیے بیک وقت دونوں امکان تھا: زندہ بچنے کا بھی اور مارے جانے کا بھی۔ اس کے برعکس موجودہ زمانے میں اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر جو بم دھماکہ کیا جاتا ہے، وہ یقیناً جان بوجھ کر خودکشی کرنے کا معاملہ ہے۔

اس عمل کی تکمیل خود عامل کی موت پر منحصر ہے۔ ان دونوں کے درمیان واضح طور پر نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ مگر اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے دونوں کو ایک سمجھ لیا گیا اور ایک واقعہ جو واضح طور پر خودکشی کا فعل تھا، اس کو شہادت کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ معرفت کے بغیر علم کی ایک مثال ہے۔

اگر آدمی کے پاس علم یعنی بمعنی معلومات ہو، مگر اس کے پاس معرفت والی بصیرت نہ ہو، تو وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو نہیں سمجھے گا۔ وہ ایسی بات کہے گا جو اس کے اپنے نزدیک علم پر مبنی ہوگی، حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف جہالت پر مبنی ہوگی۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ معرفت کے لیے بھی علم ضروری ہے، مگر صاحبِ معرفت آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ ظاہری علم سے گزر کر باطنی حقیقتوں کو دیکھے۔

وہ معلومات کا تجزیہ و تحلیل کر سکے۔ وہ سطور یعنی لائنز کے ساتھ بین السطور یعنی between the line کو پڑھے۔ وہ واقعات کو صحیح زاویہ نظر کے ساتھ دیکھ سکے۔ ایسا ہی آدمی صاحبِ معرفت آدمی ہے۔

اور جو آدمی صاحبِ معرفت ہو، اسی کے لیے اس کا علم نفع بخش بن سکتا ہے۔ معرفت کے بغیر علم ایک گمراہی ہے، بلکہ شاید سب سے بڑی گمراہی۔ کتاب: مسائلِ اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 105۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.