زاویۂ نظر کا فرق۔ پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں پیش آنے والی ایک جنگ وہ ہے جس کو غزوۂ احد کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو ابتداً جیت ہوئی تھی، مگر اس کے بعد ان کی جیت شکست میں تبدیل ہو گئی۔ اس واقعے پر قرآن میں اس طرح تبصرہ کیا گیا: "اور اللہ نے تم سے اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا، جبکہ تم ان کو اللہ کے حکم سے قتل کر رہے تھے۔
" یہاں تک کہ جب تم کمزور پڑ گئے، اور تم نے کام میں جھگڑا کیا، اور تم نے نافرمانی کی، جبکہ اللہ نے تم کو وہ چیز دکھا دی جو کہ تم چاہتے تھے۔ تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے، اور تم میں سے بعض آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے، اور اللہ نے تم کو معاف کر دیا۔ اور اللہ ایمان والوں کے حق میں بڑا فضل والا ہے۔
سورہ آل عمران، آیت 152۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی، وہ زخم خوردہ تھے۔ مزید یہ کہ احد کی جنگ تمام تر مخالفینِ اسلام کی زیادتیوں کے نتیجے میں پیش آئی تھی۔ وہ مخالفین کی جانب سے سراسر ایک طرفہ حملے کا معاملہ تھا۔
اس جنگ میں مسلمان مکمل طور پر بے قصور تھے، اور مخالفین مکمل طور پر باقصور۔ اس کے باوجود ایسا کیوں ہوا کہ قرآن میں مخالفین کو برا بھلا کہنے کے بجائے صرف مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کا انداز اختیار کیا گیا؟ اس کا سبب زاویۂ نظر کا فرق ہے۔ اس طرح کے معاملے میں کلام کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کا منطقی تجزیہ کیا جائے۔
منطقی انصاف کی روشنی میں دیکھا جائے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ یہ طریقہ بظاہر منصفانہ معلوم ہوتا ہے، مگر وہ سراسر بے فائدہ ہے۔ اس طرح کے معاملے میں اصل اہمیت منطقی انصاف بیان کرنے کی نہیں ہے، بلکہ مسئلے کے حل کی عملی تدبیر ڈھونڈنے کی ہے۔
اس طرح کے معاملے میں ہونے والے نقصان کی تلافی عملی تدبیر سے ہو سکتی ہے، نہ کہ منطقی تجزیے سے۔ قرآن نے احد کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے یہی عملی طریقہ اختیار کیا ہے۔ آخرت کی عدالت میں بلاشبہ ظالموں کو ان کا ظلم بتایا جائے گا، اور اس پر انہیں سزا دی جائے گی۔ مگر دنیا میں اس طرح کے موقع پر کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ معاملے کا عملی حل دریافت کیا جائے، تاکہ اس کے ذریعے اپنی شکست کو دوبارہ فتح میں تبدیل کیا جا سکے۔
کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 107۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.