فنِ تفکیر، آرٹ آف تھنکنگ۔ تفکیر، یعنی تھنکنگ، انسان کے تمام اعمال میں سب سے بڑا عمل ہے۔ سچی تفکیر ایک اعلیٰ عبادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ابو الدرداء صحابی کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کا افضل عمل کیا تھا۔
انہوں نے جواب دیا: "التفكر والاعتبار"، یعنی سوچنا اور عبرت پکڑنا۔ اسی طرح ایک اور صحابی، ابوذر کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ سے پوچھا گیا کہ ابوذر کی خاص عبادت کیا تھی۔ انہوں نے جواب دیا: "كان النهار أجمع خالياً يتفكر" ۔ وہ پورے دن تنہا سوچتے رہتے تھے۔
حیات الصحابہ، جلد 2، صفحہ 627۔ سوچنے کا عمل ذہن، یعنی مائنڈ کی سطح پر ہوتا ہے، اور انسانی وجود میں سب سے بڑی چیز یہی ذہن ہے۔ سوچنے کا عمل ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ تمام بڑی بڑی باتیں سوچنے کے ذریعے ہی دریافت ہوئی ہیں۔
سوچنا آدمی کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانیت کی اعلیٰ سطح تک پہنچاتا ہے۔ سوچنے کے عمل کے ذریعے ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ سوچنے کے ذریعے مشکلات کا حل دریافت ہوتا ہے۔ سوچنے کے ذریعے چھپی ہوئی حقیقتیں انسان کے علم میں آتی ہیں۔
سوچنے کے ذریعے آدمی یہ معلوم کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے مائنس پوائنٹ کو پلس پوائنٹ میں تبدیل کر سکے۔ سوچنا آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے عمل کی مؤثر منصوبہ بندی کرے۔ اور جو آدمی منصوبہ بند عمل کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ اس دنیا میں کبھی ناکام ہونے والا نہیں۔ سوچنا ہر آدمی کی پیدائشی صفت ہے۔
مگر صحیح طرزِ فکر، یعنی رائٹ تھنکنگ، صرف اس شخص کے اندر ہوتی ہے جو اپنے آپ کو شعوری طور پر اس کے لیے تیار کرے۔ صحیح طرزِ فکر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی پسند اور ناپسند سے اوپر اٹھ کر سوچنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ ہیں، نہ کہ ویسا جیسا کہ وہ خود انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ جانبدارانہ سوچ سے مکمل طور پر پاک ہو۔
وہ سوچنے کے نتیجے کو ہر حال میں قبول کرنے کے لیے تیار ہو، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 104۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.