Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Mustaqbil beeni.

Urdu · 2 min

مستقبل بینی: فتح مکہ کے بعد عرب میں وہ دور آیا جس کو تاریخ میں "عام الوفود" کہا جاتا ہے۔ عرب کے قبائل مدینہ آ کر اسلام قبول کرنے لگے۔ ان میں سے ایک قبیلہ سقیف بھی تھا جو طائف سے آیا تھا۔ یہ لوگ مدینہ آئے تو انہوں نے ایک انوکھی شرط پیش کر دی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسلام تو قبول کر لیں گے لیکن ہم نہ زکوٰۃ دیں گے اور نہ جہاد کریں گے۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ عام لوگ اس قسم کے اسلام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام نے حال سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو دیکھا۔

آپ نے اپنی بصیرت کے تحت یہ سمجھا کہ یہ لوگ جب اسلام میں داخل ہو کر مسلم معاشرے کا جز بن جائیں گے تو وہ اپنے آپ سب کچھ کرنے لگیں گے۔ چنانچہ آپ نے ان کی شرطوں کو مانتے ہوئے انہیں اسلام میں داخل کر لیا۔ لوگوں کے اشکال کو رفع کرنے کے لیے آپ نے فرمایا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد وہ زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ سَيَتَصَدَّقُونَ وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا سیرت ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 56۔

پیغمبر اسلام کے اس اسوے سے ایک عظیم حکمت معلوم ہوتی ہے۔ یہ حکمت ایک لفظ میں مستقبل بینی ہے۔ انسان کوئی پتھر نہیں ہے جو تاثر کو قبول نہ کرے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔

انسان کے حال پر اس کے مستقبل کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ آدمی سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہیے: بوقت معاملہ فوری تبدیلی پر اصرار سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اپنے آپ ایسا ہوگا کہ آدمی مستقبل میں عین وہی بن جائے گا جیسا کہ حال میں ہم دیکھنا چاہتے تھے۔ زیرِ تبع کتاب مطالعہ سیرت کا ایک باب، صفحات 208۔

کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 101۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.