Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Amali halaat ki riaayat.

Urdu · 4 min

عملی حالات کی رعایت: پیغمبر اسلام نے ذی الحجہ 9 ہجری میں حج کا فریضہ ادا فرمایا، جس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر 100,000 سے زیادہ مسلمان اکٹھا تھے۔ آپ نے اپنے خطبے میں جو باتیں فرمائیں، ان میں سے ایک وہ تھی جس کو "انسانی مساوات" کا اعلان کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے اس موقع پر یہ تاریخی الفاظ فرمائے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں۔

فضیلت کا تعلق صرف دین اور تقویٰ سے ہے۔ اس خطبے کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد مدینے میں آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ کی وفات کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کس کو خلیفہ بنایا جائے۔ مذکورہ اعلان کے مطابق بظاہر صرف یہ ہونا چاہیے تھا کہ دین اور تقویٰ کی بنیاد پر خلافت کا فیصلہ کیا جائے، نہ کہ نسل اور قبیلے کی بنیاد پر، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔

آپ کی وفات کے بعد مدینے کی ایک چوپال یعنی سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمانوں کا اجتماع ہوا۔ لوگوں کا پہلا رجحان یہ تھا کہ سعد ابن عبادہ کو خلیفہ بنایا جائے، جو مدینے کے ایک قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پیش کی کہ "الأئمة من قريش" یعنی خلیفہ یا امام قریش سے ہوگا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سعد ابن عبادہ چونکہ قبیلہ قریش سے نہیں ہیں، اس لیے ان کو خلیفہ نہیں بنایا جا سکتا۔

کسی قدر بحث کے بعد آخر کار لوگوں کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ قبیلہ قریش ہی کے کسی شخص کو خلیفہ بنایا جائے۔ اس کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ اول مقرر ہوئے، جو کہ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔ بظاہر یہ ایک متضاد بات ہے۔ پھر پیغمبر اسلام نے ایسا کیوں فرمایا؟

اس کے پیچھے ایک عظیم حکمت تھی۔ وہ یہ کہ خلیفہ یا حکمران کو ایک وسیع انسانی سماج پر احکام کا نفاذ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگ خلیفے کی اطاعت پر راضی ہو جائیں۔ یہ اطاعت رضاکارانہ ہونا چاہیے؛ جبری اطاعت کے ذریعے وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جو اسلامی خلافت کا مقصود ہے۔

قدیم عرب میں سینکڑوں سال کی تاریخ کے نتیجے میں قریش کے لوگوں کو سرداری کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ عوامی نفسیات کسی ایسے شخص کی سیادت کو آسانی کے ساتھ قبول کر لیتی تھی جس کا تعلق قریش کے قبیلے سے ہو۔ اسی سماجی صورتحال کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ "الأئمة من قريش" یہ کوئی ابدی حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ کسی قوم میں جس گروہ کو قریش جیسی سیاسی حیثیت حاصل ہو جائے، وہاں اسی گروہ کے کسی فرد کو قوم کے اوپر حاکم بنایا جائے۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عملیت یعنی پراگمیٹزم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ انفرادی معاملے میں ایک شخص کو ہمیشہ نظری معیار سامنے رکھنا چاہیے، مگر اجتماعی معاملات میں بعض اوقات نظری معیار قابلِ عمل نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے معاملے میں نظری معیار کو چھوڑ کر عملی تقاضے کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو زندگی کا نظام ہموار طور پر نہیں چل سکتا۔

کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 100۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.