اصلاح میں تدریج۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عائشہ نے فرمایا کہ قرآن میں سب سے پہلے وہ آیتیں اور سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت کا اور جہنم کا ذکر تھا، یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تو اس کے بعد حلال و حرام کے احکام اترے۔ اور اگر ایسا ہوتا کہ شروع ہی میں یہ حکم اترتا کہ تم لوگ شراب نہ پیو، تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم شراب کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ اسی طرح اگر شروع ہی میں یہ حکم اترتا کہ زنا نہ کرو، تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے۔
صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن، بحوالہ فتح الباری، جلد 8، صفحہ 655۔ اس روایت سے ایک عظیم حکمت نبوی معلوم ہوتی ہے۔ یہ وہی عملی حکمت ہے جس کو تدریج یعنی گریجویشن کہا جاتا ہے۔ انسان کی اصلاح ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔
انسان عام طور پر کچھ خیالات اور عادات سے مانوس ہو جاتے ہیں، وہ اسی کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔ اس بنا پر وہ کسی نئی چیز کو فوری طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں انسانوں کی اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کام کو حکمت اور تدریج کے ساتھ کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں پہلے لوگوں کی سوچ کو بدلا، لوگوں کے اندر قبولیت کا مزاج پیدا کیا، یہاں تک کہ جب ان کے اندر اصلاح کو قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو گئی تو اس کے بعد آپ نے شرعی احکام کا نفاذ فرمایا۔
اگر آپ فکری تطہیر اور مزاج سازی کے بغیر شریعت کے قوانین نافذ کرتے تو یہ انسانی فطرت کے خلاف ہوتا، اور وہ انقلابی نتیجہ برآمد نہ ہوتا جو عرب کے سماج میں برآمد ہوا۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 99۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.