تدبیری پسپائی: پیغمبر اسلام کے زمانے میں 8 ہجری میں ایک جنگ ہوئی، یہ شام کی سرحد پر موتہ کے مقام پر ہوئی، اسی نسبت سے اس کو جنگِ موتہ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد صرف 3,000 تھی، اس کے مقابلے میں فریقِ ثانی کی فوجی تعداد غیر متناسب طور پر بہت زیادہ تھی۔ آخری مرحلے میں خالد بن الولید اس کے سردار مقرر ہوئے، انہوں نے لڑائی کو غیر مفید سمجھ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔ وہ تدبیری پسپائی، یعنی ٹیکٹیکل ریٹریٹ کے اصول پر، موتہ سے واپس ہو کر مدینہ چلے گئے۔
عربوں کا مزاج لڑنے مرنے کا مزاج تھا، وہ اس پسپائی کی حکمت کو سمجھ نہ سکے۔ چنانچہ جب وہ مدینہ پہنچے تو وہاں کے نوجوانوں نے "یا فرار" کہہ کر ان کا استقبال کیا، یعنی "اے بھاگنے والو"۔ پیغمبر اسلام نے اس کو سنا تو آپ نے اس کی تردید فرمائی، آپ نے کہا کہ یہ لوگ بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ خدا نے چاہا تو وہ اقدام کرنے والے ہیں۔ لَيْسُوا بِالْفَرَّارِ وَلَٰكِنَّهُمْ الْقَرَّارُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 438۔
پیغمبر اسلام کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک صحیح اقدام وہ ہے جو نتیجہ خیز ثابت ہو سکے۔ محض جوش اور وقار کے لیے لڑ کر مر جانا کوئی مطلوب اسلامی کام نہیں۔ اگر اہلِ ایمان کے مقابلے میں فریقِ ثانی کی طاقت فیصلہ کن حد تک زیادہ ہو تو ایسی حالت میں مقابلے کے لیے اقدام نہیں کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر مقابلہ پیش آ جائے تو تدبیری پسپائی اختیار کی جائے گی، تاکہ مزید تیاری کر کے اپنے آپ کو نتیجہ خیز اقدام کے قابل بنایا جا سکے۔
کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 98۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.