مشکل میں آسانی: پیغمبر اسلام نے 8 ہجری میں مکہ فتح کیا، اس کے بعد آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکے سے طائف کے لیے روانہ ہوئے۔ اس زمانے میں عرب میں ہموار سڑکیں نہیں تھیں۔ چلتے ہوئے ایک جگہ ایک تنگ راستہ آیا جو دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزرتا تھا، چنانچہ یہ راستہ اپنی اسی صفت کے ساتھ مشہور ہو گیا تھا۔ پیغمبر اسلام جب اس جگہ پہنچے تو آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ اس راستے کا نام کیا ہے، ما اسم هذا الطريق؟
لوگوں نے جواب دیا کہ اس کا نام تنگ راستہ ہے۔ فقيل له: الضيقة؟ آپ نے جواب دیا کہ نہیں، یہ ایک آسان راستہ ہے۔ فقال: بل هي اليسرى.
سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 127۔ اس وقت پیغمبر اسلام کے ساتھ 10,000 سے زیادہ آدمی تھے۔ یہ لوگ اگر افقی انداز میں پھیل کر چلتے تو یقیناً ان کے لیے اس راستے سے گزرنا مشکل ہوتا۔ ایسی حالت میں وہ ان کے لیے تنگ بن جاتا۔
لیکن یہی لوگ اگر قطار بنا کر چلیں تو ان کے لیے راستے سے گزرنا مشکل نہ رہے گا، اور وہ بظاہر تنگی کے باوجود ان کے لیے عملی طور پر آسان ہو جائے گا۔ پیغمبر اسلام نے اپنے جواب میں اسی عملی حکمت کی طرف اشارہ فرمایا۔ پیغمبر اسلام کے اس واقعے سے زندگی کا ایک اہم راز معلوم ہوتا ہے، اور وہ حسبِ حالت تدبیر ہے۔ اس حکیمانہ تدبیر کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔
اس تدبیر کو استعمال کر کے زندگی کی ہر مشکل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ کتاب: مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 97۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.