سورتِ موجودہ کو مان لینا: جب بھی دو آدمی یا دو گروہوں میں نزاع پیدا ہو تو بالآخر دونوں کے درمیان ایک عملی حالت قائم ہو جاتی ہے، جس کو اسٹیٹس کو کہا جاتا ہے۔ اس اسٹیٹس کو کو بدلنے کی کوشش اکثر حالات میں بے نتیجہ ہوتی ہے، کیونکہ فریقِ ثانی اپنی پوری طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صورتِ موجودہ یعنی اسٹیٹس کو بدستور باقی رہتی ہے۔ مزید نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس بے نتیجہ کوشش میں طرفین کے حاصل شدہ مواقع بھی بے فائدہ طور پر ضائع ہو جاتے ہیں۔
اس طرح کے نزاعی معاملے میں پیغمبرِ اسلام کی سنت یہ ہے کہ موجودہ حالت یعنی اسٹیٹس کو کو مان لو۔ اس اسٹیٹس کو ازم کا یہ عظیم فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو یہ فرصت مل جاتی ہے کہ اپنی قوتوں کو مزید استحکام میں لگا دیں۔ مقامِ نزاع سے ہٹ کر اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ آخر کار طاقت کا توازن بدل جائے اور کسی بڑے ٹکراؤ کے بغیر معاملے کا فیصلہ کیا جا سکے۔ پیغمبرِ اسلام نے حدیبیہ کے موقع پر یہی حکمت اختیار فرمائی۔
آپ مدینے سے روانہ ہو کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مکے کے لوگ بھی چل کر وہاں آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو آگے جانے نہیں دیں گے۔ اس طرح حدیبیہ کے مقام پر ایک تعطل کی حالت پیدا ہو گئی۔ پیغمبرِ اسلام نے ایسا نہیں کیا کہ اس تعطل کو توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں، بلکہ آپ حدیبیہ ہی سے دوبارہ مدینہ واپس آ گئے۔
یہ گویا اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان قائم شدہ اسٹیٹس کو کو مان لینا تھا۔ اس حکمت کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیغمبرِ اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنے آپ کو مزید مستحکم کر سکیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اور صرف 2 سال کے اندر آپ کے لیے مکے میں فاتحانہ داخلہ ممکن ہو گیا۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 96۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.