Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Aaghaaze kaar.

Urdu · 2 min

آغازِ کار: پیغمبرِ اسلام کو جب مکے میں نبوت ملی تو آپ نے اپنے عمل کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے کہ اے لوگو، کہو کہ ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے۔ أيها الناس، قولوا لا إله إلا الله، تفلحوا. یعنی تم لوگ شرک کو چھوڑ دو اور ایک خدا کی پرستش کا طریقہ اختیار کرو، تم فلاح پاؤ گے۔ اس وقت کعبے میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔

اب ایک صورت یہ تھی کہ کعبے کو بتوں سے پاک کر کے اس کو توحید کے مرکز کے طور پر بنایا جاتا، مگر اس وقت وہ عملاً شرک و بت پرستی کا مرکز بن گیا تھا۔ ان حالات میں رسول اللہ کے سامنے دو مختلف راستے تھے: ایک یہ کہ کعبے سے بتوں کو نکال کر وہاں دوبارہ توحید کا ماحول قائم کریں اور اس کو مرکز بنا کر اپنی موحدانہ تحریک چلائیں۔ ایک صورت قولی دعوت سے آغاز کرنے کی تھی اور دوسری صورت عملی اقدام سے آغاز کرنے کی۔ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے، آپ نے عملی اقدام سے مکمل طور پر پرہیز کیا اور صرف قولی دعوت کے نہج پر مکے میں اپنا پیغمبرانہ مشن جاری فرمایا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت یا اسلامی تحریک کا صحیح پیغمبرانہ طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ پہلے پرامن فکری مہم کے ذریعے لوگوں کی سوچ اور کردار میں تبدیلی لائی جائے۔ یہ ابتدائی کام جب قابلِ لحاظ حد تک انجام پا جائے، اس کے بعد حسبِ حالات عملی اقدام کا آغاز کیا جائے۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 89۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.