Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Nizaa ke mauqe par.

Urdu · 3 min

نزاع کے موقع پر، پیغمبر اسلام کی عمر جب 35 سال تھی، اس وقت مکے میں ایک واقعہ پیش آیا۔ کعبے کی عمارت بعض اسباب سے منہدم ہو گئی، اس کے بعد قریش کے لوگوں نے اس کی نئی تعمیر کی۔ اس دوران یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ حجر اسود کو کون اٹھائے اور اس کو دوبارہ اس کی جگہ پر کعبے کی دیوار میں نصب کرے۔ یہ چونکہ فضیلت کا ایک معاملہ تھا، ہر ایک یہ چاہنے لگا کہ وہی اس کو اٹھا کر نصب کرے اور اس شرف کا مالک بنے۔

اس سوال پر قریش کے لوگوں میں کئی دن تک جھگڑا جاری رہا اور کوئی اتفاقی فارمولا طے نہ ہو سکا۔ آخر کار قریش کے ایک بزرگ کی تجویز کے مطابق، وہ اس پر راضی ہوئے کہ کل صبح کو جو آدمی سب سے پہلے کعبے میں داخل ہو، وہی اس مسئلے کا فیصلہ کرے اور تمام لوگ اس کے فیصلے کو مان لیں۔ اگلی صبح کو جب لوگ دوبارہ کعبے میں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کعبے میں داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہر ایک نے بیک زبان کہا: "هذا الأمين رضي الله عنه, هذا محمد." سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 214 یعنی یہ تو محمد الامین ہیں، ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں۔

رسول اللہ نے لوگوں سے کہا کہ ایک چادر لے آؤ۔ وہ لوگ چادر لائے تو آپ نے اس کو زمین پر پھیلایا اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کے اوپر رکھ دیا۔ پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ تم سب لوگ چادر کے کناروں کو پکڑو اور اس کو اٹھا کر کعبے کی دیوار کے پاس لے چلو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔

پھر آپ نے حجر اسود کو چادر سے اٹھایا اور اس کو کعبے کی دیوار میں نصب کر دیا۔ پیغمبر اسلام کا یہ عمل ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نزاعی معاملے کو کس طرح خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ حکیمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ایک کو اس میں شریک کر لیا جائے۔

اس طرح کا معاملہ لوگوں کے لیے اکثر وقار کا سوال بن جاتا ہے۔ اگر حسن تدبیر سے لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کا وقار محفوظ ہے تو مسئلے کو حل کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوگی۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 88.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.