فراستِ مومن۔ پیغمبرِ اسلام کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ آپ صاحبِ حکمت تھے، اور لوگوں کو حکیمانہ روش اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ کے بہت سے اقوال حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے فرمایا: «لا حَسَدَ إلا فِثْنَتَيْنِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا».
فتح الباری، بشرح صحیح البخاری، جلد 13، صفحہ 128۔ یعنی حسد نہیں، سوائے دو قسم کے آدمیوں پر: ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا، تو وہ اس کو حق کے راستے میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتا ہے، اور دوسرا آدمی وہ جس کو اللہ نے حکمت دی، تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور کہا کہ اے اللہ، اس کو حکمت عطا فرما۔ وَظَمَّنِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى صَدْرِهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ».
فتح الباری، جلد 7، صفحہ 126۔ اسی طرح اور بہت سی روایتیں ہیں جن سے حکمت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نِعْمَ الْمَجْلِسُ مَجْلِسٌ يُنْشَرُ فِيهِ الْحِكْمَةُ». الدارمی مقدمہ۔
یعنی کیا ہی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت کی بات کی جائے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ «لَيْسَ هَدِيَةٌ أَفْضَلُ مِنْ كَلِمَةِ حِكْمَةٍ». الدارمی مقدمہ۔ یعنی حکمت کی بات سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں۔
حکمت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی بابت یہ تعلیم دی گئی کہ دوسری قوموں میں اگر کوئی حکمت کی چیز ملے تو اس کو لینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: «الكلمةُ الحكمةُ ضالةُ المؤمنِ حَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا». الترمذی، کتاب العلم۔ یعنی حکمت کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، اور جہاں اس کو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔
بعض روایت کے مطابق حکمت اور تفقہ کی اہمیت عبادت سے بھی زیادہ ہے۔ چنانچہ الترمذی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ». مشکات المصابیح، جلد 1، صفحہ 75۔ یعنی ایک فقیہ شیطان کے اوپر ہزار عابدوں سے بھی زیادہ بھاری ہے۔
پیغمبرِ اسلام کی پوری زندگی حکمت کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ نبوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے آپ نے ہر موقع پر اور ہر مرحلے میں حکمت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ یہاں اس سلسلے میں آپ کی زندگی سے چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 87۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.