← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Pakistan ke liye intekhab.
Urdu · 18 min
پاکستان کے لیے انتخاب: "Choice before Pakistan"۔ دریا کا سامنا چٹان سے ہو تو وہ اپنا راستہ بدل کر آگے بڑھ جاتا ہے، مگر نادان انسان چاہتا ہے کہ وہ چٹان کو توڑ کر اپنا راستہ بنائے، خواہ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ اس کا سفر ہی ہمیشہ کے لیے رک جائے۔ موجودہ حالت میں پاکستان کے لیے جو انتخاب یعنی choice ہے، وہ جمہوری حکومت اور فوجی حکومت کے درمیان نہیں ہے، بلکہ حقیقی انتخاب جن دو حالتوں کے درمیان ہے، وہ یہ کہ پاکستان کا سفر جس بند گلی یعنی impasse پر آ کر رک گیا ہے، وہاں سے وہ اپنے آپ کو نکال کر اپنا سفر دوبارہ شروع کرے یا وہ اسی بند گلی میں بدستور پڑا رہے، یہاں تک کہ وہ قوموں کے عالمی road map سے غیر موجود ہو جائے۔ کسی قوم کی زندگی میں بعض اوقات ایسا لمحہ آتا ہے جب کہ قوم کا ترقیاتی سفر رک جاتا ہے؛ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا جائے تاکہ دوبارہ قوم کا سفر معتدل انداز میں جاری ہو سکے۔
اس قسم کا نازک فیصلہ اکثر اوقات عوامی جذبات کے خلاف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا جرات مندانہ فیصلہ اکثر ایسے افراد کرتے ہیں جو فوجی حکمران کی حیثیت رکھتے ہوں۔ جمہوری حکمران اس قسم کا جرات مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا، کیونکہ وہ عوام کی رائےوں سے چن کر حکومت تک پہنچتا ہے۔ اس بنا پر اس کے لیے ایسا کوئی انقلابی فیصلہ لینا ناممکن ہو جاتا ہے جو عوامی احساسات سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
یہاں میں اس نوعیت کی دو مثالیں پیش کروں گا۔ مسلم تاریخ میں اس کی ایک مثال صلاح الدین ایوبی وفات 1193 عیسوی کی ہے۔ صلاح الدین کا یہ عظیم کارنامہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے صلیبی قوموں کی فوجی یلغار سے مسلم دنیا کو بچایا۔ مگر صلاح الدین کو یہ طاقتور حاکمانہ حیثیت کیسے ملی جبکہ وہ اپنا یہ عظیم رول ادا کر سکے؟
جیسا کہ معلوم ہے، صلاح الدین ایوبی مصر کے سلطان نورالدین زنگی کا ایک فوجی افسر تھا۔ سلطان نورالدین کی موت کے بعد اگرچہ اس کے بیٹے موجود تھے، لیکن صلاح الدین نے حکومت پر قبضہ کر کے سلطان کا منصب حاصل کر لیا۔ مسلم مؤرخین نے عام طور پر صلاح الدین کے اس قبضے کی کارروائی کو جائز قرار دیا ہے، کیونکہ یہ قبضہ اگرچہ بظاہر غیر آئینی تھا، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ ایک عظیم سیاسی فائدے کا سبب بنا۔ اسی نے صلاح الدین ایوبی کے لیے اس امر کو ممکن بنایا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اپنا وہ عظیم کردار ادا کر سکے جو کہ اس نے اس کے بعد ادا کیا۔
دوسری مثال فرانس کے چارلس ڈیگال وفات 1970 کی ہے۔ وہ فرانس کی فوج میں ایک جنرل تھا۔ اس کے بعد اس نے حالات سے فائدہ اٹھا کر فرانس کے سیاسی اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ بظاہر یہ ایک غیر جمہوری عمل تھا، مگر فرانس کی نجات کے لیے ڈیگال نے ایک ایسا کام کیا جو کوئی جمہوری حکمران نہیں کر سکتا تھا۔
کیونکہ جو حکمران عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے، وہ عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے کوئی جرات مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔ جبکہ بعض حالات میں کسی قوم کی نجات کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے ایک جرات مندانہ فیصلہ لیا جائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس وقت فرانس نے افریقہ کے کئی ملکوں، مثلاً الجزائر وغیرہ، پر قبضہ کر رکھا تھا اور اس کو فرانس کے صوبے provinces کہتا تھا۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ پالیسی فرانس کے لیے اتنی زیادہ مہلک ثابت ہوئی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاری ہونے والی ترقیاتی دوڑ میں وہ یورپ کا ایک مرد بیمار بن گیا۔
ڈیگال نے قومی جذبات سے الگ ہو کر اس مسئلے پر غور کیا۔ اس کی سمجھ میں آیا کہ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ افریقہ کی فرانسیسی کالونیوں کو ایک طرفہ طور پر آزاد کر دیا جائے۔ یہ اقدام فرانس کے عوام کے جذبات کے سراسر خلاف تھا، مگر یہی وہ غیر مقبول فیصلہ ہے جس نے فرانس کو جدید ترقیاتی دوڑ میں ایک بڑی طاقت کی حیثیت دے دی۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال بھی عین یہی ہے۔
کشمیر کے سوال پر انڈیا کے خلاف پاکستان کی بلا اعلان جنگ، یعنی undeclared war، نے پاکستان کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے کہ وہ اپنی تباہی کے آخری کنارے پر پہنچ چکا ہے۔ دنیا اس کو سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک، یعنی unsafest country، کے طور پر دیکھتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری، یعنی investment، کے لیے تیار نہیں۔ پاکستانی عوام کی بے چینی، یعنی unrest، نے ملک میں خانہ جنگی، یعنی civil war، جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ملک کے مذہبی اور تعلیمی اور ثقافتی ادارے تخریبی سرگرمیوں کے مرکز بن گئے ہیں۔ ان خرابیوں کا سب سے زیادہ اندوہناک انجام وہ ہے جس کو brain drain کہا جاتا ہے۔ انسان فطری طور پر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اس لیے کسی ملک کی ترقی کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ وہاں لوگوں کو عمل کے کھلے مواقع دکھائی دیتے ہوں۔
وہاں، مثلاً، وہاں امن ہو، بہترین infrastructure ہو، آدمی کو اپنی محنت کا پورا صلہ ملتا ہوا نظر آئے۔ اگر کسی ملک میں یہ مواقع پوری طرح موجود ہوں تو اس ملک میں ہر آدمی اپنے آپ سرگرم ہو جائے گا اور ملک خود بخود ترقی کرنے لگے گا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا۔ پاکستان میں پہلے صورت موجودہ، یعنی status quo کو بدلو کے نظریے کے نتیجے میں مسلسل طور پر ہنگامی صورتحال باقی ہے۔
وہاں عملی طور پر افراد کے لیے حسبِ حوصلہ کام کے مواقع تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ چنانچہ بیشتر حوصلہ مند اور باصلاحیت افراد پاکستان چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ امریکہ کے سفروں کے دوران میں نے امریکہ میں مقیم بہت سے پاکستانیوں سے پوچھا کہ آپ اپنے ملک کو چھوڑ کر یہاں کیوں آ گئے؟ تقریباً سب کا ایک ہی جواب تھا کہ امریکہ میں کام کے مواقع ہیں جبکہ پاکستان میں کام کے مواقع نہیں۔
کشمیر کے بارے میں پاکستانیوں کی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی پاکستان کے ترقیاتی سیلاب کے لیے trapdoor بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان موجودہ زمانے میں ترقیاتی دوڑ میں پچھڑ گیا ہے۔ پاکستان کو اس پچھڑے پن سے نکالنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ پاکستان مسائل سے ٹکرانے کے بجائے مواقع کو استعمال، یعنی avail کرنے کی پالیسی اختیار کرے۔ موجودہ حالات میں اس کی عملی صورت یہ ہے کہ پاکستانی لیڈر کشمیر کے معاملے میں صورت موجودہ، یعنی status quo کو علی حالہی ماننے پر راضی ہو جائیں۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ کشمیر میں قبضے کی لائن، LOC، کو ضروری adjustment کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تسلیم شدہ سرحد قرار دے دیا جائے۔ اس معاملے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو جغرافیائی اور سیاسی status quo، یعنی political status quo، بن گیا ہے، اس کو مان کر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ مزید یہ کہ اس طرح کا انقلابی فیصلہ صرف ایک غیر جمہوری حکمران ہی کر سکتا ہے۔ کسی جمہوری حکمران کے لیے ایسا غیر جذباتی فیصلہ لینا ممکن نہیں۔
میرے نزدیک صدر پرویز مشرف کے لیے یہی تاریخی کام مقدر ہے۔ اس معاملے میں جو لوگ صدر مشرف کے حقِ اقتدار پر سوال اٹھا رہے ہیں، ان کا جواب سابق فوجی صدر محمد ضیاء الحق کی مثال میں موجود ہے۔ اس سے پہلے جنرل محمد ضیاء الحق نے یہی کیا تھا کہ پاکستان کے اقتدار پر فوجی قبضہ کیا اور پھر خود ساختہ کارروائی کے ذریعے اپنے صدرِ مملکت ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس وقت پاکستان کے اسلام پسندوں سے لے کر امریکہ کے محکمہ خارجہ تک ہر ایک نے اس کو قبول کر لیا اور قانونِ ضرورت، یعنی law of necessity، کے تحت اس کو جائز قرار دیا۔
یہ نظیر کافی ہے کہ صدر پرویز مشرف کو بھی اسی دلیل کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ یہ ایک منافقانہ کردار ہے کہ جہاں ذاتی interest دکھائی دے، وہاں آدمی practical بن جائے، اور جہاں ذاتی interest کا معاملہ نہ ہو، وہاں وہ idealism کی بات کرنے لگے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کا اقتدار سنبھالنا اور پھر 20 جون 2001 کو ملک کے صدر کی حیثیت سے حلف لینا بظاہر ایک غیر آئینی واقعہ ہے، مگر میرے نزدیک وہ ایک بالکل بروقت واقعہ ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو جو جرات مندانہ فیصلہ لینا ہے، وہ صدر پرویز مشرف جیسا فوجی حکمران ہی لے سکتا ہے۔
انتخابات کے ذریعے بننے والے کسی جمہوری حکمران کے لیے ایسا غیر جذباتی فیصلہ لینا ممکن ہی نہیں۔ اس مسئلے کا واحد علاج یہ ہے کہ پاکستان اپنی جذباتی پالیسی کو چھوڑ کر حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرے۔ وہ کشمیر کے سوال پر ہندوستان سے سمجھوتہ کر لے تاکہ ملک میں امن کی فضا پیدا ہو اور ملکی ذرائع کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف موڑا جا سکے۔ پچھلے 55 سال سے پاکستان کی سیاست ایک ہی سوال پر مرتکز رہی ہے، اور وہ ہے کشمیر میں قائم شدہ سیاسی حالت، یعنی political status quo، کو بدلنا۔
اب آخری طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ پالیسی ایک تباہ کن پالیسی ہے۔ وہ سرے سے کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہی نہیں، نہ ماضی اور حال میں اور نہ ہی مستقبل میں۔ مذکورہ قسم کا انقلابی فیصلہ لینا یقینی طور پر ایک مشکل کام ہے، لیکن اگر ایک بار ہمت کر کے پاکستان ایسا فیصلہ لے لے تو اس کے معجزاتی نتیجے برآمد ہوں گے۔ انڈیا کے خلاف بلا اعلان جنگ، انڈیا کے خلاف بلا اعلان جنگ کی حالت ختم ہو کر امن قائم ہو جائے گا۔
پاکستانی قوم کی منفی سوچ مثبت سوچ میں تبدیل ہو جائے گی۔ باہمی تجارت کے دروازے کھل جائیں گے۔ تعلیم اور ثقافت اور سیاحت کے میدان میں دونوں ملکوں کے درمیان لین دین شروع ہو جائے گا۔ لٹریچر کی دو طرفہ آمد و رفت کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی اور برادرانہ ماحول قائم ہو جائے گا۔
انڈیا اور پاکستان کی زبان اور کلچر بڑی حد تک ایک ہے، اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے لیے دور کے پڑوسی، یعنی distant neighbors، بنے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ دونوں قریب کے پڑوسی بن جائیں گے، جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا قوم کام کرنا چاہے تو اس وقت پیشگی حالات کے نتیجے میں ایک عملی صورتحال، یعنی status quo، موجود رہتی ہے۔ اب سوچنے کے دو طریقے ہیں۔
ایک یہ کہ پہلے موجودہ صورتحال، یعنی status quo، کو بدلا جائے تاکہ عمل کرنے کے راستے پیدا ہوں۔ دوسرے یہ کہ موجود صورت کو اپنے حال پر چھوڑتے ہوئے دوسرے ممکن میدانوں میں اپنا عمل جاری کرنا۔ یہ طریقہ، جس کو میں مثبت status quoism، یعنی positive status quoism، کہتا ہوں، یہی عقل کے مطابق ہے۔ ہر دانشمند آدمی کا یہ کہنا ہے کہ جب ideal کا حصول ممکن نہ ہو تو practical پر راضی ہو جاؤ۔
خود اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ الصلح خیر، النساء 128، یعنی نزاعی معاملات میں سب سے زیادہ بہتر اور مفید پالیسی سمجھوتے کی پالیسی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اختلافی مواقع پر ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر مصالحت کا طریقہ اختیار کرنا۔ status quo کو مانتے ہوئے تعلقات کو مستقل بنیاد پر استوار کرنے کی یہ تجویز کوئی نئی نہیں۔
جواہر لعل نہرو کے زمانے میں دونوں طرف کی حکومتیں مبینہ طور پر اس تجویز پر راضی ہو چکی تھیں۔ حتیٰ کہ شیخ محمد عبداللہ دونوں کے بیچ میں ایک درمیانی آدمی، یعنی middle man، کے طور پر پاکستان پہنچ چکے تھے۔ مگر نہرو کی اچانک موت سے اس تاریخ ساز منصوبے پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ By 1956، نہرو had publicly offered a settlement of Kashmir with Pakistan over the ceasefire line, now converted into the LOC, on May 23, 1964۔
نہرو asked شیخ عبداللہ to meet Ayub Khan in Rawalpindi in an effort to resolve the Kashmir-Imroli the Kashmir-Imroli۔ The Pakistani leader agreed a summit with Nehru to be held in June 1964۔ This message was urgently telegraphed to Nehru on May 26، but just as Nehru's consent reached Karachi, the world also learned that Nehru had died in his sleep، and with that, a major opportunity for a peaceful solution over Kashmir was also lost۔ The Hindustan Times، June 18, 2001۔
پاکستان اگر ایسا کرے کہ کشمیر کے بارے میں صورت موجودہ، یعنی status quo، پر رضامند ہو کر اس کو مستقل بندوبست کے طور پر قبول کر لے تو اس میں پاکستان کا یا وسیع تر معنوں میں ملت مسلمہ کا کوئی نقصان نہیں۔ کشمیر کا علاقہ پاکستان سے جدا ہونے کے بعد بھی بدستور ایک مسلم خطے کے طور پر اپنی جگہ باقی رہے گا۔ پھر اس میں آخر نقصان کی کیا بات؟ مزید یہ کہ تجربہ بتاتا ہے کہ برصغیر ہند کے جو مسلمان انڈیا سے جڑے، انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بہت زیادہ ترقی کی۔
حتیٰ کہ آج نہ صرف برصغیر ہند بلکہ پوری مسلم دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند تاجر ہندوستان کا ایک مسلمان ہے جو بنگلور میں رہتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ پاکستان کا ہندوستان سے مصالحت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اپنے طاقتور پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا ہے۔ اور اپنے پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا گویا اپنے اوپر ہر قسم کی ترقی کے دروازے کھولنا ہے۔
اپنے حریف سے نزاع کو ختم کرنا کس طرح ترقی کا زینہ بنتا ہے؟ اس کی ایک مثال موجودہ جاپان ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپان اور امریکہ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ جنگ کے بعد جاپان نے امریکہ سے مکمل مصالحت کر لی۔
اس مصالحت کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان عالمی نقشے میں ایک اقتصادی superpower بن کر ابھر آیا۔ پاکستان اپنی موجودہ پالیسی سے اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ اپنی موجودہ پالیسی کی بنا پر پاکستان کو یہ کرنا پڑا کہ اس نے انڈیا سے نفرت کو اپنے لیے اتحاد کا ذریعہ بنایا۔ اس غلط پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان، بشمول مشرقی پاکستان کے لوگ، اسلام کے نام پر تو متحد نہ ہو سکے، مگر انڈیا سے نفرت کے نام پر وہ مکمل طور پر متحد نظر آتے ہیں۔
اس مثال کی بنا پر دنیا کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ اسلام کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ مسلمانوں کو باہم متحد کر سکے۔ اسی ذہن کی ترجمانی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز، 18 جون 2001 عیسوی کے ایک مضمون میں اس طرح کی گئی ہے کہ اسلام پاکستان کو متحد نہ کر سکا، مگر ہندوستان دشمنی نے اس کو متحد کر دیا۔ Islam does not hold Pakistan together anymore, but anti-Indianism does۔ پاکستان کی مصالحت پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل پاکستان کے اندر نیا مثبت ذہن فروخت پائے گا۔
اس کے بعد اہل پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو جائیں گے، جبکہ ان کے قومی اتحاد کی بنیاد anti-India ذہن نہ ہو، بلکہ ان کے قومی اتحاد کی بنیاد pro-Islam ذہن ہو جائے۔ یہ فائدہ اتنا عظیم ہے کہ عجب نہیں کہ اس کے بعد پاکستان کے اوپر اللہ کی رحمت کے تمام دروازے کھل جائیں، اور اس کی رحمت کا کوئی دروازہ ان کے اوپر بند نہ رہے۔ کتاب "مسائلِ اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 80۔