Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Zaujain ki misaal.

Urdu · 5 min

زوجین کی مثال: قرآن کی سورہ نمبر 51 میں ارشاد ہوا ہے: وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ از ذاریات 49 یعنی ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ قرآن کی اس آیت میں موجودہ دنیا کے ایک ظاہرے کا ذکر کر کے انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اس پر سوچے اور اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اس ظاہرے کی طرف قرآن میں زوجین کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔ اس آیت میں زوجین کی تفسیر پچھلے مفسرین نے مختلف انداز سے کی ہے۔

ان تفسیروں میں بہرحال نصیحت کا سامان ہے، مگر موجودہ زمانے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان کا اضافہ کرتے ہوئے اس آیت کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے نیا یقین حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ آیت قرآن کے الفاظ میں "ایمان کے ساتھ ایمان میں اضافہ" سورہ الفتح آیت 4 کا سبب بن جاتی ہے۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زوجین کا اصول جو انسانوں میں ہے، وہی دنیا کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے۔ ہر چیز اپنے زوج کے بغیر نامکمل ہے۔

وہ اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ اس کے زوج کے ساتھ اس کو شامل کیا جائے۔ مادی ایٹم میں منفی ذرہ یعنی نیگیٹو پارٹیکل کے ساتھ مثبت ذرہ یعنی پازیٹو پارٹیکل کا ہونا۔ اسی طرح نباتات میں بھی زوجین یا نر اور مادہ کا اصول ہے۔ ان میں ایک کو میل فلور یعنی اسٹیمینیٹ فلور کہا جاتا ہے، اور دوسرے کو فیمیل فلور یعنی فسٹیلیٹ فلور۔

اسی طرح حیوانات میں بھی جوڑے ہیں، ان میں سے نر کو ہیمیل اور مادہ کو شیمیل کہا جاتا ہے۔ اسی طرح انسانوں میں بھی جوڑے ہیں جن کو ہم عورت اور مرد کے نام سے جانتے ہیں۔ زوجین کے اس عمومی اصول کو لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عموم میں ایک استثنا ہے، اور وہ ہماری انسانی دنیا ہے۔ انسانی دنیا اپنے سارے ہنگاموں کے باوجود ایک نامکمل دنیا ہے۔

اس کی تکمیل کے لیے اس کا ایک جوڑا یعنی زوج درکار ہے، مگر یہ جوڑا موجودہ دنیا میں ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ انسانی دنیا ایک مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ یہاں سارے انسانی تعلقات مفاد کے اصول پر قائم ہیں۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک با اصول معیاری دنیا یعنی آئیڈیل ورلڈ چاہتا ہے، مگر موجودہ دنیا میں وسائل کی محدودیت اور انسان کی آزادی جیسے مختلف اسباب ہیں جو فیصلہ کن طور پر اس میں رکاوٹ ہیں کہ یہاں وہ معیاری دنیا بن سکے جو انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت چاہتا ہے۔

اس کمی کا تقاضا ہے کہ موجودہ دنیا کا ایک جوڑا یعنی زوج ہو جو اس کی کمی کو پورا کر کے اس کی تکمیل کرے۔ موجودہ دنیا مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ اب اس کا جوڑا یعنی زوج ایک ایسی دنیا ہے جو مبنی بر اقدار یعنی ویلیو بیسڈ دنیا ہو۔ ایسی ایک دنیا ہی موجودہ دنیا کی کمی کی تلافی کر کے اس کی تکمیل کر سکتی ہے۔

اسی تکمیلی دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت میں خدا نے جنت کی جو دنیا بنائی ہے، وہ ہر قسم کی کمیوں اور محدودیتوں سے پاک ہے۔ وہ خوف اور حزن سے مکمل طور سے خالی ہے۔ وہاں وہ تمام اسباب کامل طور پر موجود ہیں جو انسان کو یہ موقع دیں کہ وہ بھرپور اسودگی یعنی کمپلیٹ فلفلمنٹ کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

موجودہ دنیا میں ہر چیز کا جوڑا ہونا اور صرف ایک چیز کا جوڑا نہ ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ یقینی طور پر اس کا بھی ایک جوڑا موجود ہے۔ بقیہ چیزوں کے جوڑے کو موجودہ دکھائی دینے والی دنیا میں رکھ دیا گیا ہے، مگر امتحان کی مصلحت کی بنا پر انسانی دنیا کے اس جوڑے کو نہ دکھائی دینے والی دنیا میں رکھا گیا ہے۔ مرنے کے بعد تمام انسان اسی اگلی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں، اور وہاں وہ اس جوڑے کو عملی طور پر پا لیتے ہیں۔ ربانی تعقل کا موضوع ایک بے حد وسیع موضوع ہے۔

اس کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں چند مثالیں صرف موضوع کی وضاحت کے طور پر درج کی گئی ہیں۔ ربانی تعقل کے موضوع پر راقم الحروف نے اپنی دوسری کتابوں میں اس کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت کی کوشش کی ہے۔ وہاں اس موضوع کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔

کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 77۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.