← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Kainaat ka ibtedaee dhamaka.
Urdu · 5 min
کائنات کا ابتدائی دھماکہ۔ ربانی تعقل کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 21 میں ایک کائناتی واقعے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: "کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا؟
اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا؛ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟ " اس آیت میں "رتق" اور "فتق" کا لفظ ہے۔ رتق کے معنی ہیں کسی مجموعے کا مخلوط یا منظم ہونا۔ اس سے مراد کائنات کا اصل مادہ ہے، جو ابتدائی وقت میں ایک منظم الاجزاء مجموعے کی صورت میں تھا۔
پھر اس ابتدائی مجموعے میں دھماکہ ہوا، جس کے بعد اس کے اجزاء وسیع خلا میں بکھر گئے۔ اور پھر ایک لمبے عمل کے بعد موجودہ کائنات بنی۔ قرآن کی اس آیت کو قدیم مفسرین اس کے سادہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے لیتے تھے۔ اپنے سادہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے بھی یہ آیت اہلِ حق کے لیے عظیم ایمانی فائدے رکھتی ہے۔
مگر موجودہ زمانے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان سے قرآن کے اس مجمل بیان کی تفصیل سامنے آئی ہے، جو گویا یقین اور معرفت کا نیا دروازہ کھولنے والی ہے۔ جدید فلکیاتی سائنس بتاتی ہے کہ تقریباً 20 بلین سال پہلے خلا میں ایک سپر ایٹم تھا۔ اس میں اچانک دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد اس کے اجزاء وسیع خلا میں پھیل گئے، اور آخر کار انہوں نے موجودہ کائنات کی صورت اختیار کی۔
اسی سے موجودہ تمام اجرام بنے، جس میں سے ایک ہماری یہ زمین بھی ہے۔ دھماکہ یعنی ایکسپلوژن کی دو قسمیں ہیں: منصوبہ بند دھماکہ اور منصوبے کے بغیر خود بخود ہونے والا دھماکہ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں قسم کے دھماکوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ بلا منصوبہ جو دھماکے ہوتے ہیں، وہ صرف تخریب کے سبب بنتے ہیں۔
مثلاً کسی بم یا بم کے ذخیرے کا اپنے آپ پھٹ جانا۔ اس قسم کا دھماکہ ہمیشہ تخریبی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ دوسرا دھماکہ وہ ہے جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جائے۔ مثلاً پہاڑ کے درمیان سے سرنگ نکالنے کے لیے منصوبہ بند طور پر چٹانوں میں دھماکہ کرنا۔
اس دوسری قسم کا دھماکہ ہمیشہ مفید اور تعمیری نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، کائنات کے آغاز میں سائنس کی تحقیق کے مطابق بگ بینگ کی صورت میں جو دھماکہ ہوا، اس سے انتہائی مفید اور بامعنیٰ نتائج پیدا ہوئے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ دھماکہ یقینی طور پر ایک منصوبہ بند دھماکہ تھا۔ ایک منصوبہ ساز ہستی نے اپنے متعین منصوبے کے تحت اپنے نقشے کے مطابق بالقصد یہ دھماکہ کیا۔
چنانچہ اس سے عین وہی بامعنیٰ نتائج ظاہر ہوئے جو منصوبے کے مطابق اس سے مطلوب تھے۔ اس جدید تشریح کے مطابق، مذکورہ آیت کے یہ الفاظ کہ "کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا" اور "الم يرى الذين كفروا" نہایت بامعنیٰ ہو جاتے ہیں۔ کائنات کا یہ ثابت شدہ آغاز خالص علمِ انسانی کی سطح پر اس حقیقت کو ثابت کر رہا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اس نے نہایت بامعنیٰ منصوبے کے تحت اس کائنات کو بنایا ہے۔
اس حقیقت کے ثابت ہونے کے بعد یہ بات اپنے آپ ثابت ہو جاتی ہے کہ انسان اور کائنات کی تخلیق بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا آلِ عمران 191۔ اس کھلی حقیقت کے باوجود جو لوگ کائنات کی معنویت کا انکار کریں، ان کے لیے اپنے اس انکار کی کوئی بھی معقول وجہ موجود نہیں۔ ربانی تعقل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سائنس کے تمام مضامین قرآن میں موجود ہیں، یا یہ کہ ساری کی ساری سائنس خود قرآن سے اخذ کی گئی ہے۔
اس قسم کی باتیں اسلام اور سائنس دونوں سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ اس قسم کی بات اصلًا قرآن کی تفسیر نہیں ہے، بلکہ وہ قرآن کے حوالے سے اپنے قومی فخر کو ثابت کرنے کی ایک بے فائدہ کوشش ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔ ربانی تعقل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے وہ بیانات جن کے بارے میں جدید سائنسی تحقیقات کے ذریعے نئی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، ان کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو تفصیلی انداز میں بیان کرنا۔
یہ وہی چیز ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ "لا تنقضي عجائب" یعنی قرآن کے عجائب یعنی ونڈرز کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں مستقبل کے بارے میں جو پیشنگوئی کی گئی ہے، ان میں سے ایک یقینی طور پر یہ بھی ہے کہ بعد کے زمانے میں دریافت ہونے والے سائنسی حقائق قرآن کی معنویت کو مزید نمایاں کریں گے۔ اس طرح قرآن کے کمالات کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 75۔