توہین کو برداشت کرنا۔ مشہور سیرت نگار ابنِ اسحاق بتاتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ کا نام "مزمم" رکھا تھا، پھر وہ آپ کا سب و شتم کرتے تھے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ اپنے ساتھیوں سے فرماتے تھے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ اللہ نے کس طرح مجھ کو قریش کی ایذا رسانی سے بچا لیا؟ وہ سب و شتم کرتے ہیں اور ایک مزمم شخص کی ہجو کرتے ہیں، اور میں محمد ہوں۔
وَكَانَتْ قُرَيْشٌ إِنَّمَا تُسَمَّىٰ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُذَمَّمًا ثُمَّ يَسُبُّونَهُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقُولُ: أَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا صَرَفَ اللَّهُ عَنِّي مِنْ أَذَى قُرَيْشٍ يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَّ مُحَمَّدًا. سیرت ابنِ ہشام، جلد 1، صفحہ 379۔ پیغمبرِ اسلام کا اصل نام محمد تھا، جس کا مطلب ہے "تعریف کیا ہوا"۔ مکی دور میں جب قریش کو آپ کے ساتھ عناد پیدا ہوا تو انہیں پسند نہیں آیا کہ وہ آپ کو "محمد" یعنی "تعریف کیا ہوا" جیسے نام سے پکاریں۔
انہوں نے اپنے جذبِ عناد کی تسکین کے لیے بطور خود آپ کا نام "مزمم" رکھ دیا، جس کے معنی ہیں "مذمت کیا ہوا"۔ قریش جب آپ کو برا بھلا کہتے تو وہ آپ کے لیے "محمد" کا لفظ استعمال نہ کرتے، بلکہ وہ "مزمم" کا لفظ بول کر آپ کو برا بتاتے۔ حتیٰ کہ ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے خود آپ کے سامنے آ کر کہا: مُذَمَّمًا عَصَيْنَا صفحہ 379۔ یعنی: "یہ مزمم ہیں اور ہم ان کو نہیں مانتے۔
" یہ بلاشبہ ایک اشتعال انگیزی تھی، اور آپ کی توہین بھی۔ لیکن پیغمبرِ اسلام نے ایک خوبصورت جواب دے کر اس کو نظرانداز کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ مزمم کی سب و شتم کرتے ہیں، مگر ان کی سب و شتم میرے اوپر پڑنے والی نہیں، کیونکہ میرا نام محمد ہے، نہ کہ "مزمم"۔ پیغمبرِ اسلام ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں عبداللہ ابنِ ابی آپ کا شدید مخالف بن گیا۔
اس نے اگرچہ اسلام قبول کر لیا تھا، مگر حسد کے جذبے کے تحت وہ آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ آپ کی توہین کرنا، آپ کا سب و شتم کرنا، اور آپ کے خلاف بری باتیں پھیلانا اس کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ سب سے بڑا شاتمِ رسول تھا۔ حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ سے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو قتل کر دوں۔
آپ نے فرمایا: دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ فتح الباری، جلد 8، صفحہ 520۔ یعنی: "اس کو چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ " اس واقعے سے پیغمبرِ اسلام کا ایک خاص اسوہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ توہین کو برداشت کر لو، کیونکہ اگر تم نے توہین کو برداشت نہ کیا تو اس سے بھی زیادہ بڑی برائی سامنے آئے گی، اور وہ خدا کے دین کی بدنامی ہے۔
کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 90۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.