Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Do guna ghalati.

Urdu · 12 min

دو گنا غلطی۔ جدید دور میں سلطانی ماڈل تباہ کن حد تک غیر مفید بن چکا تھا، مگر 200 سال کا ناکام تجربہ بھی نااہل مسلم رہنماؤں کی بے خبری کو توڑنے والا ثابت نہ ہو سکا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کو مکمل طور پر کھونے کے باوجود اکیسویں صدی میں بھی وہ سلطانی دور کے اس فرسودہ ماڈل ہی کو بظاہر معیاری ماڈل سمجھ رہے ہیں۔ دورِ جدید میں ناکام سلطانی ماڈل کو دہرانے کی دو قسمیں ہیں: اس کی پہلی قسم ہے حکمران کے ذریعے سلطانی ماڈل کو اپنانا، اور اس کی دوسری قسم ہے غیر حکومتی افراد یا جماعتوں کے ذریعے اس ماڈل پر عمل کرنا۔

سلطان ٹیپو پہلی قسم کے ایک مثال ہیں جنہوں نے حکمران کی سطح پر اسے ناکام طور پر دہرایا۔ وہ قدیم سلطانی ماڈل سے باہر آ کر معاملے کو سمجھ نہ سکے۔ 1799 عیسوی میں وہ انگریزوں کے خلاف ایک ناقبت اندیشانہ جنگ لڑ کر ہلاک ہو گئے۔ موجودہ زمانے میں عراق کے صدر صدام حسین کی زندگی بھی اسی سلطانی ماڈل کو اختیار کرنے کی ایک ناکام مثال ہے۔

اس کے بعد اس سلطانی ماڈل کے نام پر تجربے کی دوسری قسم شروع ہوتی ہے۔ یہ دوسری قسم وہ ہے جب کہ غیر حکومتی تنظیموں نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف لڑائی شروع کر دی۔ دوسری قسم کی اس لڑائی کا غالباً پہلا واقعہ وہ ہے جو 1831 عیسوی میں پیش آیا، جب کہ مولانا سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کا قافلہ مہاراجہ رنجیت سے لڑ کر بالاکوٹ میں تباہ ہو گیا۔ اس کے بعد 1875 عیسوی میں 1857 عیسوی میں اس نوعیت کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہوا جب کہ علمائے ہند کی جماعت نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا۔

اس کے بعد غیر حکومتی تنظیموں کے ذریعے سلطانی ماڈل کے ناکام تجربے کا ایک طویل سلسلہ قائم ہو گیا جو تا دم تحریر جاری ہے۔ فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلپائن، اراکان اور دوسرے بہت سے مقامات پر جہاں جہاد کے نام پر جو تباہ کن مسلح ٹکراؤ ہو رہا ہے، وہ سب اسی دوسرے قسم کے تجربے کی مثالیں ہیں۔ سلطانی ماڈل کے تجربے کی دوسری قسم جو غیر حکومتی تنظیموں کے ذریعے گوریلا وار، پراکسی وار وغیرہ کی صورت میں شروع ہوئی، وہ پہلی قسم سے بھی زیادہ مہلک تھی۔ اس میں بیک وقت دو غلطیاں شامل ہو گئیں: دعوتی دور میں سلطانی ماڈل کے طریقے کو اختیار کرنے کی خلافِ زمانہ کوشش، دوسری اس سے زیادہ سنگین بات یہ کہ یہ طریقہ شرعی اعتبار سے سراسر غلط تھا۔

کیونکہ ثابت شدہ طور پر مسلح جنگ صرف قائم شدہ حکومت کا حق ہے، غیر حکومتی تنظیموں کے لیے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف مسلح ٹکراؤ شروع کر دیں۔ پہلی قسم میں سلطانی ماڈل کا تجربہ اگر صرف نادانی تھا تو دوسری قسم میں سلطانی ماڈل کا تجربہ نادانی کے ساتھ شریعت سے انحراف کے ہم معنی بن گیا۔ یہی وہ دو گنا غلطی ہے جس نے موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں کے مسلح جہاد کو سراسر ناکام بنا دیا۔ اس کا سبب کسی غیر قوم کی سازش نہیں، جیسا کہ اکثر علماء اور دانشور بے دلیل طور پر اعلان کرتے رہتے ہیں۔

سلطانی ماڈل ہر اعتبار سے دعوتی ماڈل سے مختلف ہے۔ دعوتی ماڈل مکمل طور پر اسلام کے موافق مزاج بناتا ہے۔ اس کے برعکس سلطانی ماڈل ایسا مزاج بناتا ہے جو ہر پہلو سے اسلامی تقاضوں کے بالکل خلاف ہو۔ اس معاملے کی ایک مثال کشمیر اور پاکستان کا مسئلہ ہے۔

پاکستان کا تصور مکمل طور پر سلطانی طرز فکر کا نتیجہ تھا۔ پاکستانی لیڈروں کے ذہن میں اگر دعوتی ماڈل ہوتا تو وہ ہرگز جغرافی تقسیم کی بات نہ کرتے۔ ایسی صورت میں وہ اس کو خدا کی ایک رحمت سمجھتے کہ متحد ہندوستان کی صورت میں ان کو گویا ایک پورا براعظم میدان کار کے طور پر مل رہا ہے۔ ان کے ذہن میں ماضی کا سلطانی ماڈل بسا ہوا تھا۔

سلطانی ماڈل میں سارا فوکس صرف سیاسی اقتدار پر ہوتا ہے۔ مواقع دعوت یا مواقع کار کی سلطانی ماڈل میں کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس بے شعوری کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے تقسیم کی تحریک چلا کر سارے برصغیر ہند میں نفرت، بالفاظ دیگر مخالف دعوت کا جنگل اگا دیا۔ سارے دعوتی امکانات مسدود ہو کر رہ گئے۔

اس غیر اسلامی اور غیر حکیمانہ سیاست کا دوسرا دور 1947 عیسوی سے شروع ہوتا ہے۔ 15 اگست 1947 کو جب یہ علاقہ انگریزی اقتدار سے آزاد ہوا تو یہاں دو بڑے سیاسی مسئلے تھے: ایک حیدرآباد کا اور دوسرا کشمیر کا۔ ریاست حیدرآباد میں ہندو اکثریت تھی مگر حکمران مسلمان تھا۔ اس کے برعکس ریاست کشمیر میں مسلم اکثریت تھی مگر حکمران ہندو تھا۔

اب یہ سوال تھا کہ ان دونوں ریاستوں کا سیاسی مستقبل کیا ہو۔ حیدرآباد کے نواب نے اپنا رسمی الحاق پاکستان سے کر لیا۔ اس کے برعکس کشمیر کے راجہ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے کاغذات پر دستخط کر دیے۔ اس نزاع کو ختم کرنے کے لیے نئی دہلی کی لیڈرشپ نے ایک حقیقت پسندانہ پیشکش کی۔

اس نے پاکستانی لیڈروں سے کہا کہ تم حیدرآباد سے اپنا دعویٰ واپس لے لو اور ہم کشمیر سے اپنا دعویٰ واپس لے لیں۔ اس طرح یہ نزاع ختم ہو جائے گی اور دونوں ملک معتدل انداز میں ترقی کے راستے پر اپنا سفر شروع کر دیں گے۔ ہندوستانی لیڈروں کی اس پیشکش کی تائید میں قرآن میں یہ واضح ہدایت موجود تھی: "وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَجْنَحْ لَهَا عَلَى الْأَنفَارِ ٦١" یعنی اگر فریق ثانی صلح کی پیشکش کرے تو تم فوراً اس پیشکش کو قبول کر لو۔ مگر پاکستان کے لیڈر جو سلطانی ماڈل سے مسحور کن حد تک متاثر ہونے کی وجہ سے حاکمانہ نفسیات کا شکار تھے، وہ اس قیمتی پیشکش کو قبول نہ کر سکے۔

اس کے بعد جو بے پناہ تباہی آئی، وہ ہر ایک کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔ کشمیر کے بارے میں پاکستانی لیڈروں کی یہ ناقابلِ فہم نادانی تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے۔ اس معاملے کو حسبِ ذیل کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے: نمبر 1: "Looking Back" بے مہر چند مہاجن۔ نمبر 2: "Witness to an Era" بے فرینک موریس۔

نمبر 3: "Emergence of Pakistan" بے چوہدری محمد علی۔ نمبر 4: "The Nation That Lost Its Soul" بے سردار شوکت حیات خان۔ پاکستانی لیڈروں کی سلطانی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو میز کی گفت و شنید کے ذریعے حل کر سکیں۔ اس کے بعد انہوں نے شدید تر غلطی یہ کی کہ وہ فوجی طاقت کو استعمال کر کے اس مسئلے کے حل کا خواب دیکھنے لگے۔

پہلے انہوں نے براہ راست مسلح اقدام کے ذریعے ہندوستان سے فوجی ٹکراؤ کیا، مگر اس اقدام میں انہیں مکمل ناکامی ہوئی۔ ان کی سلطانی نفسیات اب بھی حقیقت پسندی کا راستہ اختیار نہیں کر سکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کشمیر میں ہندوستان کے خلاف وہ خفیہ جنگ شروع کر دی جس کو پراکسی وار کہا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ پراکسی وار نہ صرف پاکستان اور کشمیر دونوں کی تباہی کا ذریعہ تھی بلکہ وہ اسلامی شریعت کے اعتبار سے یقینی طور پر ناجائز بھی تھی۔

کیونکہ اسلام میں کسی کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے اعلان ضروری ہے: "فَانْبِذْ عَلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءِ الْأَنفَارِ ٥٨"۔ ہندوستان کے خلاف اس غیر اسلامی اور غیر دانشمندانہ جنگ کو درست ٹھہرانے کے لیے پاکستان نے دوسری بہت سی شدید تر غلطیاں کیں۔ مثلاً پاکستان نے اپنی خارجہ سیاست اور اپنے میڈیا کو مکمل طور پر ہندوستان کو بدنام کرنے اور اس کے خلاف نفرت پھیلانے کا کارخانہ بنا دیا۔ کشمیر کی گوریلا وار یا پراکسی وار میں پوری طرح شامل ہونے کے باوجود وہ مسلسل طور پر اس قولِ زور کا سہارا لیتا رہا کہ اس جنگجوئی سے ہمارا کوئی عملی تعلق نہیں۔

حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیریوں کی جنگجوئی پوری طرح پاکستان کی مدد سے جاری ہے۔ اسی طرح ظاہری طور پر اپنے آپ کو پرامن قوم بتانے کے لیے پاکستانی لیڈروں نے بار بار امن کے معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدہ تاشقند 1965، معاہدہ شملہ 1972، معاہدہ لاہور 1998۔ اس قسم کے تمام معاہدے اور اعلانات بھی پاکستانی لیڈروں کے غیر دعوتی ذہن کا شکار ہوتے رہے۔

کاغذ کے اوپر انہوں نے بار بار یہ لکھا کہ کشمیر کے مسئلے کو جنگ کے بجائے پرامن گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائے۔ مگر یہ معاہدے غالباً دنیا کو دکھانے کے لیے تھے۔ کیونکہ انہوں نے کسی بھی معاہدے کے بعد اپنی خفیہ جنگی کارروائی کو بند نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن کے مطابق معاہدے کی لفظی اور معنوی پابندی اہل اسلام کے لیے ضروری ہے: "وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولًا" الاسراء 34۔

پاکستان کے لیڈر اگر اپنے سلطانی ماڈل سے باہر آئیں اور دعوتی ماڈل کو بنیاد بنا کر سوچیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان کے لیے قرآن میں واضح رہنمائی موجود ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں بہرحال ہر فرد اور قوم کو مصیبت کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہاں انسان کھوتا بھی ہے اور پاتا بھی ہے۔ یہ دونوں قسم کے تجربے امتحان کے لیے ہیں۔

ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہیے، اس کا جواب قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: "لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آَتَكُمْ" الحدید 23۔ قرآن کی اس آیت میں پاکستانی لیڈروں کے لیے یہ رہنمائی ہے کہ کشمیر کو وہ اسی طرح اختیارانہ طور پر کھوئے ہوئے خانے میں ڈال دیں جس طرح وہ 1971 میں مشرقی پاکستان کو مجبورانہ طور پر کھوئے ہوئے خانے میں ڈال چکے ہیں۔ کشمیر میں وہ اپنی موجودہ مایوسانہ سیاست کو ختم کر دیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ کشمیر کے معاملے میں صورت موجودہ یعنی اسٹیٹس کو کو مان کر ہندوستان سے معتدل تعلقات قائم کر لیں اور منفی سیاست کا طریقہ چھوڑ کر مثبت سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔

اس طرح ان کی ترقی کا وہ دروازہ کھل جائے گا جو آدھی صدی سے بھی زیادہ مدت سے ان کے اوپر بند پڑا ہوا ہے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 65۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.