← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Sultani model,Dawati model.
Urdu · 8 min
سلطانی ماڈل، دعوتی ماڈل۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں تباہی اور ذلت سے دوچار ہو رہے ہیں۔ تباہی کی یہ مدت پوری 19ویں صدی اور 20ویں صدی تک پھیلی ہوئی ہے۔ سلطان ٹیپو سے لے کر یاسر عرفات تک 200 سال سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے، اور ابھی تک بظاہر اس کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں۔
مسلمانوں کی اس تباہی کا سبب بے عملی نہیں ہے، بلکہ وہ مکمل طور پر ہنگامہ خیز عمل کے درمیان ہو رہی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ان 200 سالوں میں دنیا بھر کے مسلمانوں نے جان و مال کی جو قربانی دی ہے، وہ مقدار کے اعتبار سے اسلام کی بقیہ پوری تاریخ کی قربانیوں سے بھی زیادہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ عمل اور قربانی کے مسلسل ہنگاموں کے باوجود مسلمان دورِ جدید میں عزت و غلبے کا مقام حاصل نہ کر سکے، جبکہ قرآن و حدیث میں واضح یقین دہانیاں موجود ہیں کہ اہلِ ایمان کی کوششوں کو اللہ ضائع نہیں کرے گا، ان کے حریفوں کے مقابلے میں ضرور انہیں سرفرازی عطا فرمائے گا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اپنی کوششوں کے لیے غلط منہج اختیار کیا۔
انہوں نے اپنی کوششوں کو اس مطلوب طریقے پر جاری ہی نہیں کیا جس کو اختیار کر کے خدا کی نصرت حاصل کی جا سکتی ہے، اور یقیناً اس دنیا میں کامیابی اس کے لیے ہے جس کو خدا اپنی نصرت سے نوازے۔ اللہ کی نصرت کے بغیر یہاں کامیابی ممکن نہیں۔ اصل یہ ہے کہ خدا نے اپنی نصرت کا وعدہ ان لوگوں سے کیا ہے جو اپنی کوششوں کے لیے پیغمبرانہ ماڈل کو اختیار کریں۔ یہ پیغمبرانہ ماڈل وہی ہے جس کو ہم نے دعوتی ماڈل کا نام دیا ہے۔
اہلِ ایمان کی حقیقی کامیابی پیغمبر کے قائم کیے ہوئے اسی دعوتی ماڈل سے وابستہ ہے، مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنما بعد کے دور میں مسلم سلاطین کے قائم کیے ہوئے سلطانی ماڈل سے اتنا متاثر تھے کہ انہوں نے اپنی تمام تحریکیں اسی سلطانی ماڈل پر چلا دیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تمام تباہیوں کا اصل سبب یہی انحراف ہے۔ مسلم رہنماؤں نے دیکھا کہ بعد کے زمانے میں مسلم سلاطین مسلح فوجوں کو لے کر مختلف علاقوں میں گھس گئے۔ انہوں نے وہاں قائم شدہ حکومت کی فوجوں کو زیر کر کے اپنی حکومت قائم کر لی۔
یہ سلطانی ماڈل اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی مسلم تاریخیں تقریباً سب کی سب اسی سلطانی ماڈل پر ڈھال دی گئیں۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے ان تاریخی کتابوں کو پڑھا اور یہ سمجھ لیا کہ اسلامی تحریک کا ماڈل بس یہی سلطانی ماڈل ہے۔ انہوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی سلطانی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھا اور مسلح جہاد کے نام پر اس کو ہر جگہ جاری کر دیا۔ یہی غلطی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تباہی کا اصل سبب ہے۔
اسلامی عمل کا صحیح ماڈل وہ ہے جو پیغمبرِ اسلام نیز دوسرے پیغمبروں کی مثال سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ ماڈل دعوتی ماڈل ہے۔ دعوتی ماڈل سے مراد یہ ہے کہ اپنے عمل کی بنیاد اسلام کی نظریاتی اشاعت پر رکھی جائے، اس کو مخاطب کے معیارِ فہم کے مطابق مدلل کرتے ہوئے پیش کیا جائے، تشدد سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے صرف پرامن ذرائع سے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ فریقِ ثانی اگر زیادتی کرے تب بھی یکطرفہ صبر کرتے ہوئے پرامن اشاعتی مہم کو جاری رکھا جائے۔
ہر قیمت پر یہ کوشش کی جائے کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور کشیدگی کا ماحول ہرگز قائم نہ ہونے پائے۔ معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لیے مفید ہوتا ہے، اور غیر معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لیے غیر مفید۔ یہی دعوتی ماڈل ہے، اور اسی طریقے کو اختیار کر کے پیغمبرِ اسلام نے خدا کے دین کو عزت اور غلبے کے مقام تک پہنچایا۔ پیغمبرانہ ماڈل میں اصل عمل دعوت کے اصول پر جاری ہوتا ہے۔
وہ آغاز میں بھی دعوت ہے اور آخر میں بھی دعوت۔ بعض اوقات بطور استثنا محدود طور پر کسی سے دفاعی ٹکراؤ پیش آ سکتا ہے، وہ بھی اس وقت جب کہ اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہوں، اور یکطرفہ جارحیت کی بنا پر اہلِ ایمان کو وقتی طور پر اپنے دفاع میں لڑنا پڑے۔ اس وقتی دفاع کے پہلے بھی دعوت ہے اور اس کے بعد بھی دعوت۔ پیغمبرانہ ماڈل میں دعوت کی حیثیت اقدام کی ہے، اور جنگ کی حیثیت محدود معنوں میں صرف وقتی دفاع کی۔
موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں نئے انقلابات ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی صورتحال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ ان تبدیلیوں نے مسلح جنگ کو بالکل غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ صرف دعوتی عمل کے ذریعے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جائے جو اسلام اور اہلِ اسلام کو عزت اور غلبے کے مقام تک پہنچانے کے لیے درکار ہے۔
قدیم زمانے میں اہلِ ایمان کو مذہبی جبر کے ماحول میں اپنا دعوتی کام کرنا پڑا تھا۔ اب یہ دعوتی کام پوری طرح مذہبی آزادی کے ماحول میں کیا جا سکتا ہے۔ پہلے زمانے میں حق کی پیغام رسانی کے لیے داعی کو پرمشقت سفر کرنا پڑتا تھا۔ اب جدید کمیونیکیشن نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ خود دعوتی پیغام تیزی سے سفر کر کے دنیا بھر کے تمام لوگوں تک پہنچ سکے۔
قدیم زمانے کے داعیوں کو مختلف قسم کے توہمات کا سامنا کرتے ہوئے حق کا پیغام پھیلانا پڑتا تھا، مگر اب سائنسی انقلاب نے توہمات کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کھلی ذہنی فضا میں حق کے پیغام کو عام بنایا جا سکے۔ پہلے زمانے میں معیشت کا انحصار صرف زراعت پر تھا، اس لیے داعیوں کو بہت کم وسائل کے ساتھ اپنا مشن چلانا پڑتا تھا۔ اب صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں اقتصادی انفجار، یعنی اکنامک ایکسپلوژن کا زمانہ آ گیا ہے۔
اب وہ کام معاشی فراوانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جو پچھلے لوگوں کو صرف معاشی تنگی کے ساتھ کرنا پڑا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید تبدیلیوں نے دعوتی ماڈل کی افادیت اور اہمیت کو بہت زیادہ بڑھا دیا تھا۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنما صرف سلطانی ماڈل سے آشنا تھے، وہ دعوتی ماڈل کو یکسر فراموش کر چکے تھے۔ انہوں نے انتہائی بے دانشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری ملت کو سلطانی ماڈل کے طریقے پر ڈال دیا، اور پھر ملت کو بھی تباہ کیا اور خود اپنے آپ کو بھی۔
کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 63۔