Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Maidane badr ka inteqaab.

Urdu · 3 min

میدانِ بدر کا انتخاب: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں 2 ہجری میں غزوۂ بدر پیش آیا۔ اس وقت آپ مدینے میں تھے۔ آپ کو خبر ملی کہ قریش کا ایک لشکر مدینے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آپ نے اس کے مقابلے کے لیے ایک فوج تیار کی اور اس کو لے کر اس رخ پر روانہ ہوئے جدھر سے قریش کا لشکر آ رہا تھا۔

بدر سے پہلے ایک مقام پر آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑاؤ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن آگے بڑھتا ہے تو اسی مقام پر اس سے مقابلہ کیا جائے گا۔ اس وقت ایک صحابی خباب بن منذر اٹھے اور رسول اللہ کے پاس جا کر کہا کہ اے اللہ کے رسول! یہ جگہ جہاں آپ ٹھہرے ہیں، یہ اللہ کے حکم سے ہے یا یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے؟

آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے۔ یہ سن کر صحابی نے کہا فَإِنَّ هَذَا لَيْسَ بِمَنْزِلِي یعنی پھر یہ تو کوئی پڑاؤ ڈالنے کی جگہ نہیں۔ سیرت ابن ہشام، الجزء الثانی، صفحہ 259۔ یہ واضح طور پر ایک اعتراض کا معاملہ تھا، مگر آپ نے اس اعتراض کو برا نہیں مانا، بلکہ صحابی سے صرف یہ کہا کہ تمہاری یہ مخالف رائے کیوں ہے؟

اس کے بعد انہوں نے اپنی رائے کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور دشمن کے درمیان کئی پانی کے کنویں ہیں۔ اگر ہم یہاں ٹھہریں اور دشمن کو آگے بڑھنے کا موقع دیں تو سارے کنویں دشمن کے قبضے میں آ جائیں گے۔ اس لیے ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم یہاں سے چل کر آگے کے مقام پر ٹھہریں اور ان سارے کنوؤں پر اپنا قبضہ کر لیں۔

اس کے بعد یہ ہوگا کہ ہم پانی پیئیں گے اور وہ لوگ پانی نہ پی سکیں گے۔ فَالنَّا شْرِيبُ وَلَا يَشْرِبُونَ وَلَا يَشْرَبُونَ فَالنَّا شْرِيبُ وَلَا يَشْرَبُونَ رسول اللہ نے یہ سن کر کہا کہ تم نے بہت اچھی رائے دی۔ لَقَدْ أَشَرْتَ بِالرَّائِيِّ یہ پوری گفتگو انتہائی معتدل ماحول میں ہوئی۔ آخر کار رسول اللہ نے رائے دینے والے کی رائے کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اس کے مطابق عمل کیا۔

اس کے بعد جو نتیجہ ہوا وہ یہ تھا کہ اہلِ اسلام کو اس مقابلے میں فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں صحیح رائے تک پہنچنے کے لیے آزادانہ اظہارِ خیال کا ماحول کتنا زیادہ ضروری ہے۔ اختلافی رائےوں سے کس طرح معاملے کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں، جو صحیح رائے تک پہنچنے کے لیے بے حد مددگار ہیں۔ اس معاملے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اختلافِ رائے اگر بالفرض جارحانہ انداز میں ہو، تب بھی اس کو خوش دلی کے ساتھ گوارا کرنا چاہیے۔

کتاب مسائلِ اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 40۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.