← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Tanqid aur ijtehad.
Urdu · 5 min
تنقید اور اجتہاد، تنقید اور تقلید دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جہاں تقلید ہوگی وہاں تنقید نہیں ہوگی، اور جہاں تنقید ہوگی وہاں تقلید نہیں ہوگی۔ اجتہاد کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے: اجتہاد لازمی طور پر تنقید چاہتا ہے۔ جہاں تنقید کا ماحول نہ ہو، وہاں کبھی اجتہاد کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔
تاہم، تنقید کو تنقید ہونا چاہیے، نہ کہ تنقیص۔ تنقید علمی اور منطقی تجزیے کا نام ہے۔ اس کے برعکس، تنقیص کا سارا انحصار عیب جوئی اور الزام تراشی پر ہوتا ہے۔ تنقید اگر تنقیص کی صورت اختیار کر لے تو وہ سب و شتم ہوگا، نہ کہ حقیقی معنوں میں تنقید۔
مثال کے طور پر، صلیبی جنگوں کے بعد مسیحی پادریوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کتابیں لکھیں۔ انہوں نے عربوں کی تصویر یہ بنائی کہ وہ ایک وحشی قوم ہیں۔ اس کا ایک ثبوت ان کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ دوسرے اسلامی خلیفہ عمر فاروق نے جب مصر فتح کیا تو اس وقت وہاں کے شہر اسکندریہ میں ایک بڑا کتب خانہ تھا۔ خلیفہ اسلام کے حکم سے یہ پورا کتب خانہ جلا دیا گیا۔
اس کی تمام قیمتی کتابیں تباہ ہو گئیں۔ اس معاملے میں مسیحی پادریوں کے جواب کی ایک صورت یہ تھی کہ یہ کہا جائے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ وہ صلیبی جنگوں سے شکست کا بدلہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے سازش کے تحت کتب خانہ جلانے کی یہ کہانی بنائی ہے، وغیرہ۔
اس قسم کی باتیں تنقید نہیں ہیں، بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ صرف سب و شتم ہیں۔ اس طرح کی باتیں مسیحی پادریوں کے الزام کا علمی جواب نہیں۔ مگر بات کو بعض اہل علم نے اس معاملے کی تحقیق کے اور خالص تاریخی شواہد کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ حضرت عمر فاروق کے حکم سے اسکندریہ کا کتب خانہ جلایا گیا۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی فتح کے وقت یہ کتب خانہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
واقعات بتاتے ہیں کہ عربوں نے 642 ہجری میں مصر کو فتح کیا، جبکہ اس سے بہت پہلے 48 عیسوی میں رومی حاکم جولیس سیزر کے حکم سے اسکندریہ کے اس کتب خانے کو تباہ کیا جا چکا تھا۔ جواب کا یہ دوسرا طریقہ علمی تنقید کی مثال ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے فلپ کیہٹی کی کتاب "History of the Arabs" صفحہ 166۔ تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ذہنی ترقی یعنی انٹلیکچول ڈیولپمنٹ کا ذریعہ ہے۔
تنقیدی ماحول کے بغیر ذہنی ترقی کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب یعنی choice ہے، وہ تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے، بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ تنقید کو ختم کرنے کے بعد جو چیز ہمارے حصے میں آئے گی، وہ ذہنی ارتقاء کا خاتمہ ہوگا، نہ کہ سادہ طور پر صرف تنقید کا خاتمہ۔ اجتہاد کا عمل بحث و مباحثہ یعنی discussion کے درمیان جاری ہوتا ہے۔
اجتہاد دراصل معلوم سے نامعلوم تک پہنچنے کا دوسرا نام ہے۔ کچھ باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں، کچھ مسائل ہوتے ہیں جن کا جواب ہمیں درکار ہوتا ہے۔ اب اگر کھلے اظہار خیال کا ماحول ہو تو ہر شخص آزادانہ طور پر اپنی رائے کو بیان کرے گا۔ اب افکار کا ٹکراؤ وجود میں آئے گا۔
اس طرح آزادانہ فکری تبادلے کے دوران معاملے کے نئے پہلو سامنے آئیں گے۔ اس کے بعد تنقیح کا عمل شروع ہوگا، یہاں تک کہ وہ تحقیقی رائے سامنے آ جائے گی جو ہماری فکری تلاش کا اصل مقصود تھی۔ اسی فکری عمل کا نام اجتہاد ہے۔ نظری اور عملی دونوں پہلوؤں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اجتہاد زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
اجتہاد کسی گروہ کے لیے ترقی کا ضامن ہے۔ جس گروہ میں اجتہاد کا عمل رک جائے، اس کے درمیان ترقی کا عمل بھی رک جائے گا۔ مگر اجتہاد کے عمل کو درست طور پر جاری ہونے کے لیے تنقید لازمی طور پر ضروری ہے۔ اجتہاد کا فائدہ انہی لوگوں کو مل سکتا ہے جو تنقید کو گوارا کریں۔
جن لوگوں کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ وہ تنقید کو کھلے طور پر سنیں اور کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کر لیں، ان کے حصے میں کبھی وہ فکری خوش قسمتی نہیں آئے گی جس کو مجتہدانہ رائے قائم کرنا کہا جاتا ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں دو متقابل مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 38۔