← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Taqlidi nazar aur ijtehadi nazar ka farq.
Urdu · 6 min
تقلیدی نظر اور اجتہادی نظر کا فرق، مولانا سید حسین احمد مدنی، وفات 1957 عیسوی، نے لکھا ہے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہند میں جب مسلمان آئے تو عام طور سے اہلِ ہند بدھ مذہب رکھتے تھے اور چھوت چھات تو درکنار، بیاہ شادی تک بخشی کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاط نے نہایت قوی تاثیر کی، خاندان کے خاندان مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد جب محمود غزنوی کا زمانہ آیا ہے تو ہندوؤں میں مختلف احوال کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے، اور شنکر اچاریہ لوگوں کو بدھ مذہب سے نکال کر برہمنی مذہب کو اختیار کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور پھر برہمنی مذہب سارے ملک میں پھیل جاتا ہے، برہمن چونکہ دیکھ رہے تھے کہ اسلام کا سیلاب اختلاط کی بنا پر ان کے مذہب کو مٹا رہا ہے، اس لیے انہوں نے عوام میں نفرت کا پروپیگنڈا پھیلایا اور مسلمانوں کو ملچ کا خطاب دیا۔
اکبر نے اس تفریقی خیال اور اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑنا چاہا۔ اگر اکبر کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہو جاتی اور اسلام کے دل دادا آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ اکبر نے اپنی کم علمی کے باعث نفس دین اسلام میں بھی کچھ غلطیاں کیں، جن سے مسلم طبقے میں اس سے بدزنی ہوئی۔
اگرچہ بہت سے بدزنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے، صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتح عرب کا پیش خیمہ ہے۔ جس روز صلح حدیبیہ تمام کو پہنچی ہے، اسی روز "إنا فتحنا لك فتح مبين" کی آیت نازل ہوئی۔ آپس میں اختلاط کا ہونا، نفرت میں کمی آنا، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معائنہ کرنا، دلوں سے ہٹ اور ضد کا اٹھ جانا، یہی امور تھے جنہوں نے قریش کو کھینچ کھینچ کر صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکے سے مدینہ پہنچا دیا۔
الغرض، اختلاط باعث عدم تنافر ہے اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا ہے، اور تنافر باعث ضد اور عدم اطلاع علی المحاسن ہے، اور وہ اسلامی ترقی میں سد راہ ہونے والا ہے۔ چونکہ اسلام تبلیغی مذہب ہے، اس لیے اس کا فریضہ ہے کہ جس قدر ہو سکے غیر کو اپنے میں شامل کرے، نہ یہ کہ ان کو دور کرے۔ اس لیے اگر ہمسایہ قومیں ہم سے نفرت کریں تو ہم کو ان کے ساتھ نفرت نہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ ہم کو نجس اور ملچ کہیں تو ہم کو انہیں یہ نہ کہنا چاہیے۔
اگر وہ ہم سے چھوت چھات کریں تو ہم کو ان سے ایسا نہ کرنا چاہیے۔ وہ ہم سے ظالمانہ برتاؤ کریں تو ہم کو ان کے ساتھ ظالمانہ اور غیر منصفانہ برتاؤ نہ کرنا چاہیے۔ مکتوبات شیخ الاسلام، حصہ اول، مکتوب نمبر 63، مطبوعہ مکتبہ دینیہ، دیوبند، صفحہ 141 تا 146۔ مولانا سید حسین احمد مدنی کے اس بیان پر غور کیجئے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقلدانہ نظر کس طرح چیزوں کو صرف ان کے ظاہر یعنی فیس ویلیو پر لیتی ہے، اور مجتہدانہ نظر کس طرح چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ جاتی ہے۔
مغل بادشاہ اکبر اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھا مگر وہ بے حد ذہین تھا۔ اس نے اس راز کو سمجھا کہ اسلام اپنی فطری کشش کی بنا پر ہر انسان کو اپیل کرتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان ضد اور نفرت کی فضا نہ پائی جا رہی ہو۔ اس نے مزید اس حقیقت کو سمجھا کہ برہمنوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوری پیدا کر کے اسلام کی اشاعت کو مصنوعی طور پر روک دیا ہے۔ اس دریافت کی بنا پر اکبر نے یہ کیا کہ اس نے کچھ بے ضرر ہندو رسموں کو اپنے دربار میں رائج کر دیا۔
اکبر کی یہ روش ہندو مذہب کو اپنانے کے لیے نہ تھی بلکہ وہ صرف تالیف قلب کے لیے تھی۔ اس کا اصل مقصد اسلام کی اشاعت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ لیکن اکبر کے کچھ معاصر علماء اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ ان کی نگاہ صرف اکبر کے گیروے کپڑے کو دیکھ سکی۔
اکبر نے جس گہری پالیسی کے تحت وقتی طور پر گیروے کپڑے کو اختیار کیا تھا، اس حکمت کو سمجھنے سے وہ قاصر رہے۔ انہوں نے اکبر کے خلاف اتنا طوفان اٹھایا کہ اکبر کا منصوبہ اپنی تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ اس معاملے کو غلط رنگ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی تاریخ کا سفر اسلام کی موافقت میں جاری ہونے کے بجائے اسلام کے خلاف جاری ہو گیا۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے اس معاملے پر جو تبصرہ کیا ہے، وہ مجتہدانہ نظر کی ایک واضح مثال ہے۔
وہ اپنی مجتہدانہ بصیرت کی بنا پر اس راز کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ معتدل حالات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اختلاط ہمیشہ اسلام کی اشاعت کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ چھری اور خربوزے کے درمیان اگر ٹکراؤ ہو تو جیت ہمیشہ چھری کی ہوگی، خواہ چھری کو خربوزے کے اوپر رکھا گیا ہو یا خربوزے کے نیچے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جبکہ چھری نے بظاہر اپنے آپ کو خربوزے کے رنگ میں رنگ لیا ہو۔ کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 36۔