Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Khilafe zamana ravish.

Urdu · 4 min

خلافِ زمانہ روش: موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر ایک قسم کی خلافِ زمانہ روش، یعنی "اناکرونسٹک ایٹیٹیوڈ"، میں مبتلا ہو گئے۔ جن قدیم شخصیتوں کے وہ ذہنی مقلد بنے ہوئے تھے، ان کے یہاں پرامن طریقہ کار یا پرامن جدوجہد کا تصور سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ یہ تصور قرآن و سنت میں واضح طور پر موجود تھا، مگر براہِ راست قرآن و سنت سے حکم اخذ کرنے کے لیے اجتہاد درکار تھا، اور انہوں نے پہلے ہی اجتہاد کا دروازہ اس طرح بند کر دیا تھا کہ ایک صاحب کے بقول اب اس کی کنجی بھی گم ہو گئی تھی۔ قرآن میں فطرت کا ایک ابدی قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: "الصلح خیر، النساء 128"، یعنی ٹکراؤ کے طریقے کے مقابلے میں مصالحتانہ طریقہ زیادہ بہتر ہے۔

یہ واضح طور پر تشدد کے مقابلے میں عدم تشدد کی اہمیت کی تعلیم تھی۔ یہ واضح طور پر تشدد کے مقابلے میں عدم تشدد کی اہمیت کی تعلیم ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الله يعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف صحیح مسلم، کتاب البر۔ یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ متشددانہ طریقہ کار کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار زیادہ نتیجہ خیز ہے۔ پرامن طریقہ کار، یعنی "پیس فل میتھڈ"، کے حق میں قرآن و سنت میں اس قسم کی واضح تعلیمات موجود تھیں، مگر دورِ جدید کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر ان کو دریافت نہ کر سکے۔ وہ تشدد کی چٹان سے بے فائدہ طور پر اپنا سر ٹکراتے رہے اور بطورِ خود یہ سمجھتے رہے کہ وہ قربانی اور شہادت کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ اس مقلدانہ ذہن نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو بے شمار نقصانات پہنچائے، اور فائدہ کچھ بھی نہیں دیا۔

مثال کے طور پر فلسطین کے عربوں کو اگر یہ راز معلوم ہوتا تو وہ 1948 کے بعد اپنی تباہ کن مسلح جدوجہد نہ چھیڑتے، بلکہ وہ پرامن طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے جدید امکانات سے فائدہ اٹھاتے۔ اس کے بعد فلسطین میں ان کو مزید اضافے کے ساتھ وہی پرعظمت حیثیت حاصل ہو جاتی جو اسی اصول کو استعمال کر کے یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح کشمیر کے مسلمان اگر اس قیمتی راز سے واقف ہوتے تو وہ کشمیر میں گن کلچر اور بم کلچر نہ چلاتے، بلکہ اس کے بجائے وہ پیس کلچر چلاتے۔ وہ امن کے دائرے میں رہتے ہوئے جدید امکانات کو استعمال کرتے۔

اس کے بعد وہ نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے ہندوستان میں ایسی باعظمت حیثیت حاصل کر لیتے جو نام نہاد آزاد کشمیر کے مقابلے میں ان کے حق میں سو گنا زیادہ بہتر ہوتی۔ اسی طرح موجودہ زمانے کے مسلم رہنما جو مختلف مسلم ملکوں میں لڑ کر اقتدار کی کنجی چھیننے میں مشغول ہیں، اور اپنے ملکوں کو صرف تباہی میں اضافہ کا تحفہ دے رہے ہیں، وہ اگر پرامن طریقہ کار کی اہمیت کو جانتے تو وہ اپنے ملکوں کو اب تک اسلامی چمنستان بنا چکے ہوتے۔ جیسا کہ سیکولرزم کا عقیدہ رکھنے والوں نے اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ملکوں میں انجام دیا ہے، مثال کے طور پر سنگاپور وغیرہ۔ کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 34۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.