← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Jadeed imkanat ka isteamal.
Urdu · 7 min
جدید امکانات کا استعمال: موجودہ زمانے کے مسلمان عجیب و غریب طور پر ایک استثنائی محرومی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اس محرومی میں شاید کوئی بھی دوسری قوم یا دوسرا گروہ ان کا شریک نہیں۔ وہ ہے دورِ جدید کے عظیم امکانات کو استعمال کرنے میں ناکام رہنا۔ موجودہ زمانے میں جن امکانات، یعنی opportunities، کا دروازہ انسان کے لیے کھلا، ان میں سے ایک نہایت قیمتی امکان وہ تھا جس کو آزادی، یعنی freedom، کہا جاتا ہے۔
فرانس کے انقلابی مفکر روسو نے اپنی کتاب "معاہدہ عمرانی" یعنی Social Contract کا آغاز اس جملے سے کیا تھا: "انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتا ہوں۔ " یہ قول دورِ جدید کا کلمہ بن گیا۔ یہ تصور اتنا بڑھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمہ طور پر یہ مان لیا گیا کہ آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ ہر انسان کا یہ ناقابلِ تنسيق حق ہے کہ وہ جس چیز کو درست سمجھتا ہے، اس کو اختیار کرے اور اس کے مطابق عمل کرے۔
اس مطلق آزادی کو مقید کرنے والی صرف ایک چیز تھی، وہ یہ کہ آدمی اپنی آزادی کے استعمال میں جارح نہ بنے۔ وہ تشدد کے بجائے پرامن ذرائع سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اس کی وضاحت کے لیے دو متعلق قصے کا ذکر مفید ہوگا جو اس معاملے کو بخوبی طور پر واضح کرتا ہے۔ 300 سال پہلے جب امریکہ انگریزوں کے سیاسی غلبے سے آزاد ہوا تو ایک امریکی شہری خوشی منانے کے لیے ایک سڑک پر نکلا۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلاتا ہوا جا رہا تھا۔ اس دوران اس کا ایک ہاتھ ایک راہگیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہگیر نے غصہ ہو کر کہا کہ یہ کیا نامعقول حرکت ہے "What is the nonsense? " امریکی شہری نے جواب دیا کہ اب امریکہ آزاد ہے، اب میں جو چاہوں کروں۔
راہگیر نے نرمی کے ساتھ جواب دیا کہ بے شک تم آزاد ہو، مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔ "Your freedom ends where my nose begins. " یہ قصہ آزادی کے جدید تصور کو نہایت خوبی کے ساتھ واضح کر رہا ہے۔ جدید دور انسان کو مکمل آزادی دیتا ہے، اس واحد شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے ساتھ تشدد نہ کرے۔
مہاتما گاندھی، جو اپنی مغربی تعلیم کے دوران اس حقیقت کو جان چکے تھے، انہوں نے اس کو ہندوستان کی تحریک آزادی میں استعمال کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، 1857 میں ہندوستان کے مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے یہ تحریک پرتشدد طریقہ کار کے اصول پر چلائی۔ 60 سال سے زیادہ لمبی مدت تک خونی جنگ کرنے کے بعد یہ تحریک ناکام رہی۔
اس کے بعد 1919 میں مہاتما گاندھی نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے طریقہ کار کو بدل کر آزادی کی اس تحریک کو پرامن جدوجہد کے اصول پر چلایا، یہاں تک کہ 1947 میں ہندوستان آزاد ہو گیا۔ اس فرق کا سبب کیا تھا؟ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلم رہنما اپنے مقلدانہ فقہی ذہن کی بنا پر طریقہ کار کے نام سے صرف ایک ہی طریقے کو جانتے تھے، اور وہ مسلح جہاد ہے۔
مدون فقہ کی تمام کتابیں پرامن جدوجہد، یعنی peaceful struggle، کے تصور سے خالی ہیں۔ یہ کتابیں صرف ایک ہی طریقے کا تعارف کراتی ہیں، اور وہ پرتشدد جدوجہد ہے۔ کیونکہ یہ کتابیں اس دور میں لکھی گئیں جبکہ انسان طاقت کے نام سے صرف تلوار کو جانتا تھا۔ عربی کا ایک قدیم مقولہ ہے: "جنگ کو جنگ کاٹتی ہے، الحرب أنفع للحرب." ایک فارسی شاعر نے اس قدیم تصور کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے: "جو شخص تلوار مارتا ہے، اسی کے نام کا سکہ چلتا ہے، هر که شمشیر زن سکہ بنامش خوانن." یہ عسکری طرز فکر موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے کہ شاید کوئی بھی مسلمان اس سے خالی نہیں۔
مختلف شکلوں میں ہر جگہ اس کو دہرایا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک فلسطینی ترانے کا ایک شعر یہ ہے کہ "آؤ ہم لڑیں، آؤ ہم لڑیں، کیونکہ لڑائی ہی کامیابی کا راستہ ہے" "هلم نقاتل، هلم نقاتل، فإن القتال سبيل الرشاد." قدیم فقہ پر مبنی یہ ذہنی ڈھانچہ، mental framework، اتنا زیادہ عام ہوا کہ نام نہاد جدید مفکرین بھی اس کے خول سے باہر نہ آ سکے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی، سید قطب، ڈاکٹر اقبال، سید ابو الاعلی مودودی وغیرہ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانے میں ہمارے رہنماؤں کی تمام قربانیاں رائیگاں ہو کر رہ گئیں۔
موجودہ زمانے میں مسلح طریقہ کار کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار کس طرح زیادہ نتیجہ خیز ہے، اس کا اندازہ مہاتما گاندھی کی ایک مثال سے ہوتا ہے۔ وہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں 1919 میں شریک ہوئے۔ اس وقت تک ہندوستان کی تحریک آزادی تشدد کے اصول پر چلائی جا رہی تھی۔ برٹش حکومت اس تشدد کو جوابی تشدد سے کچل دیتی تھی۔
مہاتما گاندھی نے اچانک یہ اعلان کیا کہ ہم تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصول پر اپنی تحریک چلائیں گے۔ طریقہ کار کی اس تبدیلی نے برٹش حکومت کو بے بس کر دیا، کیونکہ غیر متشددانہ تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے اس کے پاس کوئی جواز باقی نہ رہا تھا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ جب مہاتما گاندھی نے تحریک آزادی کے لیڈر کی حیثیت سے نیا اعلان کیا تو ایک انگریز کلکٹر نے اپنے سیکریٹریٹ کو یہ ٹیلیگرام بھیجا کہ "براہ کرم یہ بتائیں کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے" "Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently." کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 32۔