← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Maujuda fiq kafi nahi.
Urdu · 5 min
موجودہ فقہ کافی نہیں۔ دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جو فقہ مدون ہوئی، اس کے بارے میں بعد کے مسلمانوں کا یہ عمومی عقیدہ ہو گیا کہ یہ ایک مکمل فقہ ہے: انسانی زندگی سے متعلق قرآن و حدیث کی تمام تعلیمات مفصل اور مکمل طور پر اس میں شامل ہیں۔ یہ عقیدہ اس نظریے کو حق بجانب ثابت کرتا تھا کہ فقہ کی تدوین کے بعد اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے؛ اب صرف اجتہاد مقید یا مقلدانہ اجتہاد کا دروازہ مسلمانوں کے لیے کھلا ہوا ہے۔ یہ عقیدہ قدیم زمانے میں بظاہر درست تھا، مگر جب حالات بدلے—خاص طور پر جب روایتی دور ختم ہوا اور جدید سائنسی دور آیا—تو یہ عقیدہ مسلمانوں کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوا۔
مسلمان اپنے تصور کے مطابق فقہ کو مکمل قانونی نظام سمجھ بیٹھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انہیں اپنے مسائل کے لیے مدون فقہ سے باہر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس بنا پر دورِ جدید کے مسلمان بہت سی ان قیمتی ہدایات سے محروم ہو گئے جو قرآن و سنت میں تو موجود تھیں مگر مدون فقہ میں ان کو جگہ نہیں ملی تھی۔ چند مثالوں سے اس معاملے کی وضاحت ہوتی ہے۔
موجودہ زمانے میں جو سیاسی انقلاب آیا، اس کے نتیجے میں ایک نیا سیاسی نظام پیدا ہوا جس کو جمہوریت یعنی ڈیموکریسی کہا جاتا ہے۔ ہماری موجودہ فقہ اس سے پہلے بادشاہت کے دور میں بنی، اس لیے اس میں جدید جمہوریت کا کوئی تصور شامل نہ تھا۔ چنانچہ مدون فقہ کے ڈھانچے میں سوچنے والے اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں سکے۔ کسی نے اس کو لادینی نظام قرار دے کر اس کو حرام بتایا، کسی نے اس کو صرف سرشماری سمجھا اور یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا: "جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنہ کرتے ہیں، تولہ نہیں کرتے"۔
مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی نعمت کی حیثیت رکھتی تھی۔ قدیم بادشاہت کے برعکس جمہوریت شرکتِ اقتدار یعنی پاور شیئرنگ کے اصول پر مبنی ہے۔ جمہوری نظام مسلمانوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ حسنِ تدبیر سے ہر ملک میں سیاسی نفوذ حاصل کر سکیں، مگر مسلمان اجتہادی طرزِ فکر سے محرومی کی بنا پر ایسا نہ کر سکے۔ ان کے مقلدانہ ذہن نے یہ تو سوچا کہ وہ امریکہ جیسے ملک میں خلافت قائم کرنے کی تحریک چلائیں اور کیلیفورنیا کو خیلی فورنیا میں تبدیل کرنے کا مضحکہ خیز خواب دیکھیں، مگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آ سکی کہ وہ شرکتِ اقتدار کے جدید اصول کو استعمال کر کے امریکہ میں اپنی سیاسی جگہ حاصل کریں۔
موجودہ زمانے میں مسلم فکر کی اسپسماندگی کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے مجتہدانہ طرزِ فکر، بالفاظِ دیگر مدون فقہ سے باہر آ کر براہِ راست قرآن و حدیث سے رہنمائی لینے کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیا۔ اگر یہ فکری حادثہ نہ پیش آتا اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ قرآن میں تدبر کرتے، تو انہیں معلوم ہوتا کہ قرآن اس معاملے میں انہیں واضح رہنمائی دے رہا ہے۔ یہ رہنمائی قرآن کی سورہ نمبر 12 میں موجود ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے پیغمبر یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔
یہ بادشاہ اگرچہ مشرک تھا اور مشرک ہی مرا، مگر اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر اس کے لیے راضی ہو گیا۔ مگر اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر وہ اس اس کے لیے راضی ہو گیا کہ حضرت یوسف کو اپنے سیاسی نظام میں ایک بااختیار شریک کی حیثیت سے شامل کرے۔ یوسف علیہ السلام اپنے ہم عصر بادشاہ کی اس پیشکش پر راضی ہو گئے اور اس کے سیاسی نظام میں ایک حکومتی عہدہ قبول کر لیا۔ یہ عہدہ بظاہر بادشاہ کے تحت وزیر غذا اور زراعت کا عہدہ تھا، مگر عملاً وہ نائب سلطنت کا عہدہ تھا۔
کیونکہ قدیم زراعتی دور میں کسی ملک کی تمام اقتصادی اور غیر اقتصادی سرگرمیاں زراعت یعنی ایگریکلچر پر مبنی ہوتی تھیں۔ اس لحاظ سے حضرت یوسف کو جو عہدہ ملا، وہ گویا ملک کے سب سے زیادہ کلیدی عہدے کی حیثیت رکھتا تھا۔ دورِ جدید کے مسلمان اگر فقہی تقلید سے گزر کر براہِ راست قرآن پر مجتہدانہ غور و فکر کرتے، تو وہ جان لیتے کہ قرآن میں حضرت یوسف کا مذکورہ واقعہ ان کے لیے ایک عظیم پیغمبرانہ نظیر ہے۔ وہ انہیں یہ رہنمائی دیتا ہے کہ وہ جمہوریت کے نئے دور میں شرکتِ اقتدار کے اصول کو اپنے حق میں استعمال کریں اور یہ یقین رکھیں کہ ان کا ایسا کرنا پیغمبر کے اسوے کے عین مطابق ہے۔
کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 30۔