← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Amn ki taaqat.
Urdu · 6 min
امن کی طاقت جدید صنعتی انقلاب کے بعد جب نوآبادیاتی دور آیا اور مغربی قومیں تمام دنیا میں سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے غالب آ گئیں، تو یہ مسلمانوں کے لیے ایک نیا مسئلہ تھا۔ ساری مسلم دنیا میں کثرت سے مسلم لیڈر پیدا ہوئے، ان تمام لیڈروں کا مشترک ذہن یہ تھا کہ "الجهاد هو الحل الوحيد" یعنی جہاد ہی واحد حل ہے۔ مگر تقریباً 200 سال کی غیر معمولی جدوجہد اور قربانی کے باوجود، اس مسلح جہاد کا کوئی مثبت فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ اس مسئلے پر اگر قرآن و حدیث کی روشنی میں غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حل پرامن دعوت ہے۔
قرآن میں اسی طرح کی صورتحال میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ تم اللہ کی دی ہوئی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاؤ، یہ عمل تمہارے لیے حفاظت کا ضامن ہوگا۔ المائدہ 67 میں بتایا گیا ہے کہ حکمت کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا کام کرو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو تمہارا دشمن ہے وہ تمہارا دوست بن جائے گا۔ حامیم السجدہ 34 میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن اپنی خاموش زبان میں پکار کر یہ کہہ رہا تھا کہ "الدعوة هو الحل الوحيد" یعنی دعوت ہی واحد حل ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ دور جدید کے مسلمان قرآن کے اس واضح بیان میں ہدایت نہ پا سکے؟
وہ دعوت کے بجائے جہاد یعنی بمعنی قتال کے میدان میں سرگرم ہو گئے، جبکہ حالات کے اعتبار سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ اس قسم کے متشددانہ اقدام کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہیں۔ پھر موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں سے یہ بھیانک غلطی کیوں ہوئی کہ انہوں نے "الجهاد هو الحل الوحيد" کا غیر قرآنی نظریہ قائم کر لیا؟ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اجتہاد مطلق یعنی قرآن و سنت سے براہ راست اخذ احکام کو اپنے لیے امر ممنوع قرار دے چکے تھے۔ وہ اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر صرف یہ جانتے تھے کہ موجودہ مدون فقہ سے اپنے لیے احکام حاصل کرتے رہیں۔
اب صورتحال یہ تھی کہ فقہ کی یہ کتابیں جہاد و قتال کے احکام سے بھری ہوئی تھیں، ہر فقہی کتاب میں اس کے احکام موجود تھے۔ دوسری طرف فقہ کی ان کتابوں کا حال یہ تھا کہ وہ دعوت الی اللہ کے مسائل و احکام سے یکسر خالی تھیں۔ ان میں کتاب الجہاد تو تفصیلی طور پر موجود تھا، مگر کتاب الدعوی یا کتاب التبلیغ سرے سے وہاں موجود ہی نہ تھا۔ دعوت کا حکم وہ قرآن میں پا سکتے تھے، مگر قرآن کو انہوں نے ماخذ احکام کی حیثیت سے چھوڑ رکھا تھا۔
وہ اخذ احکام کا ذریعہ صرف فقہ کو سمجھتے تھے، اور کتب فقہ کے صفحات دعوتی رہنمائی سے بالکل خالی تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اجتہاد، بالفاظ دیگر قرآن و سنت سے براہ راست احکام اخذ کرنا کتنا زیادہ مفید ہے، اور تقلید، بالفاظ دیگر مدون فقہ کو احکام اخذ کرنے کا واحد ذریعہ سمجھ لینا کتنا زیادہ نقصان دہ ہے۔ یہی غلطی برصغیر ہند کے مسلم رہنماؤں سے اس وقت ہوئی جبکہ انگریزوں کے غلبے کے بعد انہوں نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی نے 1823 میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔
اس کے بعد 500 علماء نے اپنے مشترک دستخطوں سے یہ فتویٰ جاری کیا کہ مسلمانوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے۔ مسلمانانِ ہند کو چاہیے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد یعنی قتال کا آغاز کر دیں۔ مسلم رہنماؤں کے ان فتووں اور اپیلوں کے بعد ہندوستان کے مسلمان ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد میں مشغول ہو گئے۔ سو سالہ جنگ کے باوجود یہ جہاد عملاً سراسر بے نتیجہ ثابت ہوا۔
مگر عجیب بات ہے کہ آج بھی یہ مسلمان اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان یہی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان دارالحرب ہے، اور انہیں جہاد کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ یہ عجیب و غریب صورتحال کیوں ہے؟ اس کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ اجتہاد اور تقلید کے بارے میں اپنے مذکورہ مقلدانہ مسلک کی بنیاد پر ان کا ذہن بعد کو مدون ہونے والی فقہ میں اٹکا ہوا ہے، اور اس فقہ میں ملکوں کی جو تعریف و تقسیم کی گئی ہے، اس کے مطابق ہندوستان جیسا ملک دارالحرب ہی قرار پاتا ہے۔ یہ مسلم رہنما اگر فقہ اور فقہاء کے درمیانی دور سے پیچھے جاتے اور قرآن و سنت کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ ہندوستان کی شرعی حیثیت کیا ہے، تو یقینی طور پر وہ جان لیتے کہ موجودہ ہندوستان ان کے لیے دارالدعویٰ کی حیثیت رکھتا ہے، جیسا کہ دور اول میں اس قسم کے تمام علاقے اہلِ اسلام کے لیے دارالدعویٰ کی حیثیت رکھتے تھے۔
مگر اجتہاد، براہ راست قرآن و سنت سے مسئلہ اخذ کرنا ان کے لیے امر ممنوع بنا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر صرف مدون فقہ پر انحصار کیا، اور جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ مدون فقہ میں صرف دارالحرب کا باب ہے، اس میں دارالدعویٰ کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔