Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Shatme rasul ka masala.

Urdu · 9 min

شتمِ رسول کا مسئلہ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے: تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شتم کرے، خواہ وہ اشارتاً ہی کیوں نہ ہو، اس کی لازمی سزا قتل ہے۔ شاتمِ رسول کو بطورِ حد قتل کیا جائے گا، يُقتَلُ حَدًّا. اس معاملے میں بہت کم کسی قابلِ ذکر فقیہ کا استثناء پایا جا سکتا ہے۔ اس حکم کی تفصیل کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجیے: 1) "الصارم المسلول علی شاتم الرسول" ابن تیمیہ، 2) "الصيف المسلول علی من سب الرسول" تقی الدین ابو الحسن علی السبکی، 3) "تنبیہ الولات والحکام علی احکام شاتم خیر الانام او احد اصحابہ الكرام" ابن عابدین الشامی۔

اس مسئلے پر جب بھی کوئی شخص کوئی مضمون یا کتاب لکھتا ہے تو وہ ہمیشہ یہی کرتا ہے کہ ان فقہاء کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرتا ہے کہ شتمِ رسول کی سزا اسلام میں قتل ہے، اور یہ کہ یہ ایک ایسا متفق علیہ مسئلہ ہے جس پر شاید کسی فقیہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شریعت کا مسئلہ یہی ہے کہ شاتمِ رسول کو لازماً بطورِ حد قتل کیا جائے، تو یہ مسئلہ دورِ اول کے اسلام میں کیوں موجود نہ تھا؟ اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانے میں بہت سے ایسے افراد موجود تھے جو شتمِ رسول کا فعل کر رہے تھے، مگر انہیں قتل نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک انتہائی واضح مثال مدینے کے عبداللہ ابن ابی ابن سلول کی ہے: وہ ایک کھلا ہوا شاتمِ رسول تھا۔

وہ رات دن شتمِ رسول کے کام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کا شاتم ہونا غیر مشتبہ طور پر ثابت تھا، پھر بھی لوگوں کے اصرار کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرا۔ اس عدمِ قتل کا سبب کیا تھا؟ علامہ ابن تیمیہ، وفات 728 ہجری، نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "وَإِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلمَ قَتْلَهُ لِمَا خِيَفَ فِي قَتْلِهِ مِن نُفُورِ النَّاسِ عَنِ الْإِسْلَامِ لِمَا كَانَ ضَعِيفًا" "الصارم المسلول علی شاتم الرسول" صفحہ 179۔

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کیونکہ یہ اندیشہ تھا کہ اس کے قتل سے لوگ اسلام سے برگشتہ ہو جائیں گے، کیونکہ اس وقت اسلام ضعیف تھا۔ دورِ اول کے زمانے میں اور عباسی خلافت کے زمانے میں بننے والی فقہ کے درمیان یہ فرق کیوں؟ جیسا کہ معلوم ہے، فروری 1989 میں ایران کے آیت اللہ خمینی نے یہ فتویٰ دیا کہ سلمان رشدی نے اپنی کتاب "Satanic Verses" کے ذریعے پیغمبرِ اسلام کی توہین کی ہے، اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کو قتل کر دیں۔ یہ فتویٰ جب چھپا تو غالباً راقم الحروف کے واحد استثناء کو چھوڑ کر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں نے اس فتوے کی تائید کی۔

اس کی حمایت میں زبردست مظاہرے ہوئے، مگر مسلمانوں کی عالمی تائید کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ مزید یہ کہ قتل کے اس فتوے اور مسلمانوں کی طرف سے اس کی حمایت کے نتیجے میں اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا، اور اس کی تصویر یہ بن گئی کہ اسلام خدانخواستہ ایک وحشیانہ مذہب ہے۔ موجودہ زمانے میں آزادیِ رائے کو انسان کا سب سے بڑا حق سمجھا جاتا ہے، یہ گویا ان کا مذہب ہے۔ اس بنا پر پوری جدید دنیا نے اس فتوے کو اپنے مذہب یعنی آزادی پر براہِ راست حملہ سمجھا۔

یہ لوگ پوری طاقت کے ساتھ رشدی کے دفاع میں آ گئے۔ اسی کے ساتھ جدید میڈیا نے اس معاملے کو اتنا پھیلایا کہ اس کی خبر ساری دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اندیشے کی بنا پر مدینے کے عبداللہ ابن ابی کے قتل سے پرہیز کیا، وہ اندیشہ سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتوے کے نتیجے میں ہزار گنا زیادہ بڑے پیمانے پر اہلِ اسلام کے لیے پیش آ گیا۔ اب ان دو متقابل نظیروں پر غور کیجیے۔

پیغمبرِ اسلام کی نظیر بتاتی ہے کہ شتمِ رسول کے معاملے میں، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ بڑے پیمانے پر ہو، یہ دیکھا جائے گا کہ شاتم کو اگر قتل کیا جائے تو اس کا عملی نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر حالات پر اہلِ اسلام کا اتنا کنٹرول نہ ہو کہ وہ قتل کے منفی نتائج کو روک سکیں، تو اہلِ اسلام قتل کا اقدام نہیں کریں گے، وہ اس معاملے کو اللہ کے حوالے کر دیں گے۔ اس کے برعکس فقہاء کی مثال بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص شتم کا فعل کرے تو اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے پیغمبرِ اسلام کی نظیر سے اپنے لیے ہدایت نہیں لی؟

ان کی نظر فقہاء کے مسلک پر اٹک کر رہ گئی۔ فقہاء کی پیروی میں متحد ہو کر وہ قتلِ شاتم کے علمبردار بن گئے۔ اس سوال کا جواب تقلید ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان متفقہ طور پر یہ رائے بنا چکے تھے کہ اب امت کے لیے براہِ راست قرآن و سنت سے اجتہاد کا دروازہ بند ہے۔

اب صرف اجتہادِ مقید ہی کا دروازہ ان کے لیے کھلا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اب مسلمان براہِ راست قرآن اور سنت سے مسائل اخذ نہیں کر سکتے۔ اب ان کے لیے صرف ایک ہی ممکن صورت ہے، اور وہ یہ کہ وہ فقہاء کے فتووں کو جانیں اور پورے تقلیدی جذبے کے ساتھ اس پر قائم ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے رشدی کے معاملے میں یہی کیا۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، موجودہ فقہ کی تدوین اس وقت ہوئی جبکہ اہلِ اسلام کو مکمل اقتدار حاصل تھا۔ ان کو حالات پر اتنا زیادہ کنٹرول تھا کہ کسی قوم کی طرف سے اگر باغیانہ روش کا اندیشہ ہوتا تو خلیفہ صرف دھمکی کا ایک خط لکھتا اور باغی گروہ پست ہمت ہو کر خاموش ہو جاتا۔ اسی قسم کے ایک واقعے پر عربی شاعر نے یہ پرفخر شعر کہا تھا: إذا ما أرسل الأمراء جيشًا إلى الأعداء أرسلنا الكتاب یعنی دوسرے امراء جہاں اپنے دشمن کے مقابلے کے لیے لشکر بھیجتے ہیں، وہاں ہم صرف خط بھیج دیتے ہیں۔ مگر موجودہ زمانے میں حالات بدل چکے تھے۔

اب اہلِ اسلام کو پہلے کی طرح حالات پر کنٹرول حاصل نہ تھا۔ مزید یہ کہ ان کے لیے بہت سے ناموافق حالات پیدا ہو چکے تھے، مثلاً آزادی کا موجودہ زمانے میں خیرِ اعلیٰ یعنی سمم بونم کی حیثیت اختیار کر لینا، اور اظہارِ رائے کی آزادی کو مقدس حق کے طور پر مان لیا جانا۔ اسی طرح جدید میڈیا کا ظہور میں آنا، جو گویا گرم خبر یعنی ہاٹ نیوز کی عالمی ایجنسی ہے، وغیرہ۔ انہی نئے حالات کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی عالمی حمایت کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔

مزید یہ ناقابلِ تلافی نقصان ہوا کہ اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ جدید انسان کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر بن گئی کہ اسلام خدانخواستہ دہشت گردی کا مذہب ہے۔ وہ اپنے پیروؤں کو مذہبی جنون یعنی فناٹیسزم کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ نتیجہ تھا بدلے ہوئے زمانے میں حاکمانہ دور کی فقہ کو نافذ کرنے کا۔

یہ نتیجہ تھا بدلے ہوئے زمانے میں حاکمانہ دور کی فقہ کو نافذ کرنے کا۔ سلمان رشدی کے معاملے میں موجودہ زمانے کے مسلمان اگر اجتہادِ مطلق کا طریقہ اختیار کرتے تو وہ اس معاملے میں براہِ راست قرآن و سنت سے روشنی حاصل کرتے، اور پھر انہیں معلوم ہو جاتا کہ اس مسئلے کا حل قتل کا فتویٰ نہیں ہے، بلکہ ردِ عمل سے بچتے ہوئے پرامن دائرے میں اپنی دعوت کی کوشش کرنا ہے۔ مگر چونکہ وہ اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر دورِ اقتدار میں بننے والی فقہ کے اندر اٹکے ہوئے تھے، اس لیے ان کو وہی حاکمانہ مسئلہ نظر آیا جو فقہ کی ان کتابوں میں لکھا ہوا تھا، یعنی "الشاتم یقتل حدًا"۔ کتاب "مسائلِ اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 24۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.