نمونہ موجود نہیں۔ میں نے ایک مشہور عالم اور مفکر کی تقریر سنی، یہ تقریر ہندوستان کے ایک شہر میں ہوئی تھی۔ ان کی تقریر کا موضوع "جدید دور میں اسلام" تھا۔ تقریر کے آخر میں حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ ہندوستان جیسے ملک میں ہمارے لیے شریعت میں کیا رہنمائی ہے؟
مذکورہ مسلم رہنما یہ سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہے، اس کے بعد کہا کہ اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے کیونکہ اسلامی شریعت میں طاقتور حالت یعنی پوزیشن آف اسٹرینتھ کا ماڈل تو موجود ہے، مگر اسلام میں متواضع حالت یعنی پوزیشن آف موڈیسٹی کا ماڈل موجود نہیں۔ میں عرصے تک یہ سوچتا رہا کہ مذکورہ مسلم رہنما کو اسلامی شریعت میں متواضع حالت کا ماڈل کیوں نہیں ملا۔ آخر کار یہ سمجھ میں آیا کہ مذکورہ مسلم رہنما، یعنی دورِ جدید کے دوسرے مسلم رہنماؤں کی طرح، شریعتِ اسلام کے نام سے صرف مدون فقہ کو جانتے تھے، یعنی وہ فقہ جو اس وقت تیار ہوئی جبکہ اہلِ اسلام ہر اعتبار سے طاقت اور اقتدار کی حالت میں تھے۔ اس بنا پر اس زمانے میں بننے والی اسلامی فقہ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، گویا طاقتوروں کی فقہ ہو گئی۔
وہ طاقت اور اقتدار کی حالت کی نمائندگی کر رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جب مسلم رہنماؤں نے دیکھا کہ اب وہ مطلق اقتدار سے محروم ہو گئے ہیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی شریعت انہیں ان کی متواضع حالت کے لیے کوئی مثبت رہنمائی نہیں دے رہی ہے۔ اس بنا پر موجودہ زمانے میں انہیں اس کے سوا کوئی اور کام نظر نہ آیا کہ وہ اقتدار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے دوسروں سے لڑائی چھیڑ دیں۔ دورِ اقتدار میں مدون ہونے والی فقہ میں بلاشبہ یہ رہنمائی موجود نہ تھی، مگر دورِ اول میں جو قرآن اترا وہ بلاشبہ ابدی تعلیمات پر مشتمل تھا۔
اس میں ہر حالت کے لیے رہنمائی موجود تھی، حتیٰ کہ اس حالت کے لیے بھی جس کو مذکورہ مسلم رہنما نے متواضع حالت سے تعبیر کیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ مسلمان ہمیشہ یکساں حالت پر نہیں رہیں گے۔ ان کو کبھی ایک حالت سے سابقہ پیش آئے گا اور کبھی دوسری حالت سے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو دوسروں کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے"۔
اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں تاکہ اللہ ایمان لانے والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے، اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ سورہ آل عمران آیت 140۔ پیغمبر اسلام پر یہ دونوں حالتیں گزریں۔ آپ کا مکی دور گویا آپ کے لیے متواضع حالت کا دور تھا، اور آپ کا مدنی دور گویا آپ کے لیے طاقتور حالت کا دور۔
یہ دونوں حالتیں یکساں طور پر مطلوب حالتیں ہیں، اور دونوں حالتوں کے لیے پیغمبر کی سیرت میں یکساں نمونہ موجود ہے۔ دونوں نمونوں میں سے کوئی نمونہ نہ کمتر نمونہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی برتر نمونہ۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں سارا فیصلہ داخلی نیت پر ہوتا ہے، نہ کہ خارجی اعتبار سے سیاسی یا غیر سیاسی حالت پر۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 22۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.