فقہ کی تدوین دورِ اقتدار میں۔ اس حادثے کی جڑ یہ ہے کہ ہماری موجودہ فقہ خلافتِ عباسیہ کے زمانے میں مدون ہوئی۔ یہ وہ زمانہ ہے جبکہ اہلِ اسلام کو عالمی دبدبہ حاصل تھا، ان کو دنیا میں سب سے بڑی سیاسی طاقت کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس صورتحال کو ایک شاعر نے اپنے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: "ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تا غرب دنیا میں، نہ تھا پلہ کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے۔
" موجودہ فقہ اسی حاکمانہ دور میں مدون ہوئی۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے دور کا مزاج ان کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ مدون فقہ ایک قسم کی حاکمانہ فقہ بن گئی۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 22۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.