← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
As sare nau ghaur karne ki salahiyat.
Urdu · 7 min
السر نو غور کرنے کی صلاحیت۔ مقلد انسان عوامی مقولے کے مطابق صرف لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ کسی معاملے کا السر نو اندازہ، یعنی ری اسسمنٹ، کر سکے۔ وہ ایک ہی مانوس ڈگر پر چلتا رہتا ہے، خواہ عملاً وہ سراسر بے نتیجہ کیوں نہ ہو۔
اس کے برعکس اجتہادی مزاج رکھنے والا آدمی بار بار معاملات پر نظرثانی کرتا ہے۔ وہ ماضی اور حال کا مطالعہ کر کے اپنے عمل کا نیا منصوبہ بناتا ہے۔ مقلد انسان اگر ماضی بھی ہوتا ہے تو مجتہد انسان اس کے مقابلے میں مستقبل بھی۔ اس کی ایک مثال برصغیر ہند کے حالات میں ملتی ہے۔
اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں جب ہندوستان میں انگریزوں کا غلبہ ہوا تو اس زمانے کے مسلم رہنما صرف ایک ہی بات سوچ سکے، اور وہ انگریزوں سے مسلح ٹکراؤ تھا۔ دارالحرب اور جنگ و قتال کے قدیم نظریات کے تحت ان کا جو ذہن بنا تھا وہ ان کو صرف ایک ہی سبق دیتا تھا، اور وہ یہ کہ انگریزوں سے لڑ کر ان بیرونی دشمنوں کا خاتمہ کریں۔ اس مزاج کے تحت 1799 عیسوی میں سلطان ٹیپو انگریز کی فوجوں سے لڑ گئے، اگرچہ اس کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ وہ خود بھی ہلاک ہوئے اور ان کی وسیع سلطنت بھی ختم ہو گئی۔ انہی نظریات کے تحت 1857 عیسوی میں مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑ دی۔
یہ جنگ مختلف شکلوں میں نصف صدی سے زیادہ لمبی مدت تک جاری رہی۔ اس کا نتیجہ بھی معلوم طور پر مسلم رہنماؤں کی ایک طرفہ تباہی کی صورت میں نکلا۔ اس خونی جنگ کا کوئی بھی فائدہ نہ اسلام کو ملا اور نہ مسلمانوں کو۔ یہ ان لوگوں کی مثال تھی جنہوں نے انگریزوں کے معاملے کو مقلدانہ نظر سے دیکھا۔
تاہم ٹھیک اسی معاملے میں مجتہدانہ نظر کی ایک مثال بھی تاریخ میں موجود ہے کہ سید محمد رشید رضا مصری وفات 1935 عیسوی کی مثال ہے۔ وہ 1912 عیسوی یعنی 1330 ہجری میں مولانا شبلی نعمانی کی دعوت پر لکھنو آئے تھے تاکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ اس کے بعد وہ دارالعلوم دیوبند آئے جو اس وقت گویا انگریزوں کے خلاف تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند میں ایک خصوصی جلسہ ہوا۔
دارالعلوم کی طرف سے مولانا انور شاہ کشمیری نے تقریر کی۔ اس کے بعد سید محمد رشید رضا نے جلسے کو خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر عربی زبان میں جو تقریر کی وہ دارالعلوم دیوبند کی روداد یعنی 1330 ہجری میں چھپی ہوئی موجود ہے۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ تھا: "اسلام کی اشاعت کا دوسرا حصہ غیر مسلموں سے متعلق ہونا چاہیے۔
ہندوستان میں صدہا قسم کے بت پرست ہیں۔ یہاں بتوں کو پوجنے والے، درختوں اور پتھروں کے پوجنے والے، چاند سورج ستاروں اور نہایت لغویات اور خرافات کو پوجنے والے بھی موجود ہیں۔ پس اگر ہمارے پاس دعات اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہوگی جو اس وقت ہمارے خیال میں بھی نہیں آ سکتی۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک دور اندیش مسلمان کی توجہ کے لائق ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں کے مقابلے میں اس قدر کم ہے کہ ان کی ہستی کو اس ملک میں ہمیشہ معرض خطر میں سمجھنا چاہیے۔ انگریزی حکومت نے جو عقل و عدل کی حکومت ہے غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان موازنہ قائم کر رکھا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ موازنہ کسی وقت ٹوٹ جائے تو آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کیا نتیجہ ہوگا۔ غالباً مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو اندلس میں ہوا تھا۔
اس لیے ایک جماعت ہم میں ایسی ہونی چاہیے جو ان شبہات کو رفع کرے جو اسلام پر عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ شبہات موجودہ زمانے کے علوم و فنون کی بنا پر پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کا دور کرنا بہت ضروری ہے۔ مگر ان شبہات کا رفع کرنا بغیر فلسفہ جدید کی واقفیت کے ناممکن ہے۔
اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس داعی جماعت کے اشخاص فلسفہ جدید کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں۔ الجمعیہ ویکلی دہلی 6 فروری 1970 عیسوی صفحہ 10 سید محمد رشید رضا کی یہ تقریر مجتہدانہ بصیرت کی ایک مثال ہے۔ حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے انہوں نے پیشگی طور پر یہ جان لیا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلم اقلیت اور غیر مسلم اکثریت کے درمیان بظاہر جو موازنہ یعنی بیلنس قائم ہے وہ ایک تیسری طاقت یعنی انگریز کی موجودگی کی بنا پر ہے۔ اس تیسری طاقت کے ہٹتے ہی اس کا قائم کردہ موازنہ اچانک ٹوٹ جائے گا۔
اس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوگی وہ اس سے بالکل مختلف ہوگی جو 1912 عیسوی میں بظاہر دکھائی دے رہی تھی۔ گویا سیاسی آزادی کا آنا مسلمانوں کے لیے ایک نئے مسئلے کا آنا ہوگا نہ کہ مسئلے کا ختم ہونا۔ اس دور رس اندازے کی بنا پر سید رشید رضا نے ہندوستان کے مسلم رہنماؤں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ میدان جنگ کے بجائے میدان دعوت میں سرگرم ہوں۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے علمی تیاری کریں تاکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق موثر انداز میں دعوت و تبلیغ کا کام کر سکیں۔
مگر اس وقت کے مسلم رہنما انگریز سے نفرت میں اتنا زیادہ گم تھے مگر اس وقت کے مسلم رہنما انگریز سے نفرت میں اتنا زیادہ گم تھے کہ وہ یہ سوچ ہی نہ سکے کہ انگریز کی موجودگی میں کوئی مثبت کام کرنا بھی ان کے لیے ممکن ہو سکتا ہے۔ ایک عظیم تاریخی امکان استعمال ہوئے بغیر ختم ہو گیا اور اس کا سبب صرف اجتہادی بصیرت کا فقدان تھا۔ یہاں ہم اجتہادی تاخر کی چند مثالیں دیں گے جن سے اندازہ ہوگا کہ مقلدانہ فکر کو اختیار کرنے کے نتیجے میں مسلمان کس قسم کے نقصانات سے دوچار ہوئے۔ اجتہادی عمل کو موقوف کرنے کے نتیجے میں کس طرح وہ دور جدید میں ایک پچھڑا ہوا قافلہ بن کر رہ گئے۔
کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 20.