فکری علمیہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے مسلمانوں کے فکری علمیے کا آغاز ہوتا ہے۔ اس فکری موقف نے مسلمانوں کو ایک ٹہرا ہوا قافلہ بنا دیا۔ امیر شکیب ارسلان، وفات 1946، نے اپنی کتاب "لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم" میں جو بحث چھیڑی تھی، اس کا اصل جواب یہی ہے کہ زمانۂ جدید میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا واحد سبب یہ تھا کہ ان کے درمیان اجتہاد کا عمل رک گیا۔ اجتہاد کوئی اختیاری عمل نہیں، وہ ایک ناگزیر فطری عمل ہے۔
ایسا نہیں کہ اجتہاد خواہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد کے عمل کو روکنا گویا فطرت کے عمل کو روکنا ہے، اور فطرت کے عمل کو روکنا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ خود روکنے والا اپنی ترقی کے سفر کو ختم کر دے۔ دریا کی زندگی اس کی روانی میں ہے۔ دریا کے جاری پانی کو اگر روک دیا جائے تو اس کے بعد وہ دریا نہ رہے گا بلکہ وہ ایک متعفن گڑھے میں تبدیل ہو جائے گا۔
اسی طرح کوئی گروہ اگر اپنے درمیان اجتہاد کے عمل کو روک دے تو اس کے اندر ایسا جمود پیدا ہوگا جو اس کے لیے ہر قسم کی ترقی کو ناممکن بنا دے گا، صرف مادی ترقی نہیں بلکہ خود مذہبی اور روحانی ترقی بھی۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.