اجتہاد کیا ہے؟ اجتہاد سے مراد آزادانہ رائے قائم کرنا نہیں ہے، اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت جو اسلام کے اصل مصادر یعنی sources ہیں، ان پر غور کر کے قیاسی یا استنباطی طور پر شریعت کے نئے احکام معلوم کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد بھی تقلید ہی کی ایک قسم ہے: عام مقلد فقہاء کی تقلید کرتا ہے، اور مجتہد وہ ہے جو خدا اور رسول کی تقلید کرے، اور قرآن و حدیث کے نصوص پر غور کر کے براہِ راست طور پر احکام کا استنباط کرے۔ اجتہاد سے مراد وہی فکری عمل ہے جس کو قرآن میں استنباط، سورہ النساء آیت 83 کہا گیا ہے؛ فقہاء کی اصطلاح میں اسی کا نام قیاس ہے۔
دوسرے لفظوں میں، اس بات کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اجتہاد سے مراد بالواسطہ اخذ احکام ہے، جبکہ براہِ راست اخذ احکام کی صورت بظاہر موجود نہ ہو۔ استنباط کا لفظ "نبط" سے ماخوذ ہے؛ نبط کے لفظی معنی ہیں زمین کے اندر سے پانی کا نکلنا۔ استنبط البئر کے معنی ہوتے ہیں کنواں کھود کر اس سے پانی نکالنا۔ اسی سے یہ کہا جاتا ہے کہ استنبط الفقیہ، یعنی فقیہ نے قرآن و حدیث پر غور کر کے اس کے پوشیدہ معنی کو نکالا۔
مفسر القرطبی نے لکھا ہے: "الاستنباط في اللغة الاستخراج، وهو يدل على الاجتهاد إذا عدم النص والإجماع." (الجامع لأحكام القرآن، جلد 5، صفحہ 292) یعنی استنباط کے معنی استخراج کے ہیں؛ اس کا مطلب ہے نص اور اجماع کی غیر موجودگی میں اجتہاد کر کے شریعت کا حکم معلوم کرنا۔ فقہاء اسلام نے دوسری صدی ہجری میں اجتہاد کا یہی کام کیا۔ عباسی خلافت کے زمانے میں کثرت سے نئے مسائل پیدا ہوئے؛ ان مسائل کا براہِ راست یا منصوص جواب بظاہر قرآن و سنت میں موجود نہ تھا۔ اس وقت فقہاء اسلام نے اجتہاد کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا: انہوں نے قرآن و سنت کے نصوص سے قیاس یا استنباط کے ذریعے نئے حالات کے لیے شرعی احکام معلوم کیے۔
اسی اجتہاد کا یہ فائدہ تھا کہ اہلِ اسلام کے قافلے نے بدلے ہوئے حالات میں اپنے لیے شرعی رہنمائی پا لی۔ تاریخ میں ان کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل جاری رہا۔ مگر دوسری اور تیسری صدی ہجری کے بعد اہلِ اسلام کے درمیان بعض اسباب سے ایک غلط تصور قائم ہو گیا: وہ یہ کہ قرآن و سنت سے براہِ راست طور پر جو اجتہاد یا استنباط کرنا تھا، وہ اس ابتدائی دور کے فقہاء نے تکمیلی طور پر انجام دے دیا؛ اب براہِ راست نصوص سے احکام اخذ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعد کے مسلمانوں کے لیے کرنے کا جو کام ہے، وہ یہ ہے کہ وہ ان فقہاء کی کتابوں کو پڑھیں اور ان پر غور کر کے بعد کے زمانوں کے لیے شرعی احکام معلوم کرتے رہیں۔
اس طرح اسلام کی علمی تاریخ میں عباسی دور کے فقہاء کو مجتہد مطلق کا درجہ مل گیا، اور بعد کے دور کے فقہاء کو صرف مجتہد مقید کا۔ دورِ اول کے فقہاء کا اجتہاد قرآن و سنت پر مبنی ہوتا تھا، مگر بعد کے علماء کے لیے اجتہاد کا مطلب صرف یہ رہ گیا کہ وہ دورِ اول کے فقہاء کے دائرے میں محدود رہتے ہوئے اپنے لیے شرعی احکام کا تعین کریں۔ کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 18۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.