← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Tanqid na sunne ka noqsan.
Urdu · 5 min
تنقید نہ سننے کا نقصان۔ سید احمد شہید بریلوی نے 1831 عیسوی میں مسلمانوں کی ایک فوج کے ساتھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کیا۔ یہ واقعہ بالاکوٹ، پنجاب میں پیش آیا۔ اس جنگ میں سید احمد شہید بریلوی اور ان کے اکثر ساتھی رنجیت سنگھ کی فوجوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
یہ پرجوش جہاد عملی اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوا۔ سید احمد شہید بریلوی کی فوج میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو ان سے بیعت کیے ہوئے تھے۔ انہی میں سے ایک مولانا میر محبوب علی الدہلوی وفات 1280 ہجری تھے۔ وہ اپنے وقت کے ایک مشہور عالم تھے۔
وہ سید احمد شہید بریلوی کی فوج میں شریک ہو کر روانہ ہوئے۔ چارسدہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا گیا۔ یہاں پہنچ کر مولانا میر محبوب علی صاحب کو سید صاحب سے اختلاف ہو گیا۔ مولانا میر محبوب علی صاحب نے اپنی اس اختلاف کی روداد اپنی عربی کتاب "تاریخ الامتی فی خلفائے الامہ" میں درج کی ہے۔
یہ کتاب دہلی میں جامعہ ہمدرد طغلق آباد کے کتب خانے میں موجود ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میر محبوب علی صاحب نے چارسدہ کے مقام پر سید احمد شہید بریلوی سے خلوت میں ملاقات کی۔ انہوں نے سید صاحب سے پوچھا کہ آپ نے سکھوں کے خلاف جہاد کا یہ اقدام کس بنیاد پر کیا ہے۔ سید صاحب نے بتایا کہ کشف اور خواب کی بنیاد پر۔
میر محبوب علی صاحب نے کہا کہ جہاد کا فیصلہ کشف اور خواب کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں ہے کہ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ الشورىٰ 38۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ جہاد کا فیصلہ مشورے کے ذریعے کیا کرتے تھے۔ آپ کو بھی مشورہ کرنا چاہیے اور اقدام سے پہلے اس معاملے کی پوری تحقیق کرنا چاہیے۔
مگر سید احمد شہید بریلوی نے میر محبوب علی صاحب کی اس بات کو نہیں مانا۔ انہوں نے کہا کہ تم اپنی اس تنقید سے میرے کام میں خلل ڈال رہے ہو۔ تمہاری اطاعت خاموشی کے ساتھ سننے کی ہونی چاہیے۔ ایسی خاموشی جیسی سامنے والے پہاڑ کی ہے۔
سید صاحب سے میر محبوب علی صاحب کی یہ گفتگو ناکام رہی، چنانچہ وہ واپس ہو کر دہلی آ گئے۔ سید صاحب نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: مَن ذَهَبَ مِنْ عِندِي إِلَى وَطْنِهِ مُرَاجِعًا فَقَدْ ذَهَبَ إِيمَانُهُ اس واقعے کو بعض کتابوں میں میر محبوب علی صاحب کی گمراہی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مولانا سید عبدالحی صاحب، سابق ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ، نے لکھا ہے کہ مولانا میر محبوب علی صاحب اپنے وقت کے مشہور علماء میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سید احمد شہید بریلوی کے ساتھ۔
انہوں نے سید احمد شہید بریلوی کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی اور سید صاحب اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ یاغستان کا سفر کیا۔ مگر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، چنانچہ انہوں نے سید صاحب کا ساتھ چھوڑ دیا اور ہندوستان واپس آ گئے۔ وَبَيَعَ السَّيِّدُ الْمُجَاهِدُ أَحْمَدِ بْنِ عِرْفَانَ الْبَرِيلْوِي بَيْعَتَ الْجِهَادِ وَسَافَرَ إِلَى يَاغِسْتَانِ مَعَ أَصْحَابِهِ لِيَنْصُرَهُ فِي الْجِهَادِ وَلَكِنَّ الشَّيْطَانَ وَسْوَسَ فِي صَدْرِهِ فَتَأَخَّرَ وَرَجَعَ إِلَى الْهِندِ نُزْهَةُ الْخَوَاطِرِ وَبَجْهَةُ الْمَسَامِعِ وَالنَّوَاضِرِ الجزء السابع صفحات 406-407 سید احمد شہید بریلوی نے اپنے اقدام کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا۔ انہوں نے یہ تحقیق بھی نہیں کی کہ پنجاب میں اسلامی شعائر کی بے حرمتی کی خبریں جو انہوں نے سنی ہیں وہ کس حد تک درست ہیں۔
انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی طاقت کتنی زیادہ ہے اور ان کے اپنے مریدوں کی غیر تربیت یافتہ فوج کس حد تک اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ وہ محض خوش عقیدگی کے تحت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ریاست میں داخل ہو گئے، جبکہ یہاں کے جغرافیہ کا بھی انہیں پوری طرح علم نہ تھا۔ فطری طور پر اس کا انجام یہ ہوا کہ سید صاحب اور ان کے بیشتر ساتھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان کی یہ مہم مسلمانوں کی ایک طرفہ تباہی کے ساتھ ختم ہو گئی۔
اس دوسری مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں درست رائے تک پہنچنے کے لیے یہ کتنا ضروری ہے کہ اختلاف رائے کا کھلا ماحول ہو۔ لوگوں کی تنقیدیں خوش دلی کے ساتھ سنی جائیں اور علمی بحث و مذاکرے کے بعد درست فیصلے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 41۔