Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Halaat ki riaayat.

Urdu · 4 min

حالات کی رعایت: صحیح البخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ قریش نے بعد کو جب کعبے کی تعمیر کی تو انہوں نے اس کو حضرت ابراہیم کی اثاث پر نہیں بنایا، بلکہ اس کو بدل کر بنایا۔ یعنی حضرت ابراہیم نے کعبے کو لمبائی میں بنایا تھا، مگر قریش نے اس کو مربع صورت میں بنا دیا۔ انہوں نے قدیم کعبے کے ایک حصے کو خالی چھوڑ دیا، جس کو اب حتیم کہا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کیوں نہیں کعبے کو دوبارہ ابراہیمی اثاث پر بنا دیتے؟

رسول اللہ نے جواب دیا کہ تمہاری قوم، یعنی قریش، ابھی جلد ہی کفر کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئی ہے، اندیشہ ہے کہ کہیں وہ اس سے بھڑک نہ جائیں۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور ایسا کرتا۔ فتح الباری، جلد 3، صفحہ 513۔ امام البخاری نے یہ حدیث کتاب الحج، یعنی باب فضل مکۃ و بنیانیہ میں درج کی ہے۔

اب اگر بعد کے لوگ امام البخاری کے قائم کردہ اس ترجمہ باب پر اکتفا کر لیں تو وہ اس حدیث سے صرف فضائل مکہ جیسے مسائل اخذ کریں گے، اس کے علاوہ اور کوئی تعلیم وہ اس حدیث میں دریافت نہ کر سکیں گے۔ حالانکہ اس حدیث میں اسلام کی ایک نہایت اہم تعلیم بیان کی گئی ہے۔ اس تعلیم کو ایک لفظ میں حکمتِ حیات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ صحیح بات یہ تھی کہ کعبے کی اثاث کو دوبارہ حضرت ابراہیم کی اصل اثاث پر قائم کیا جائے۔

اس کو مشرکین کی اثاث پر چھوڑنا بظاہر ایک غیر صحیح فعل تھا، اس کے باوجود آپ نے اس کی تصحیح کی کوشش نہیں کی، کیونکہ اس وقت کے حالات میں کعبے کی تعمیر میں یہ تصحیح نئے مسائل پیدا کر سکتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ زندگی میں بعض اوقات ایسی صورتحال پیش آتی ہے جبکہ یہ نہ دیکھا جائے کہ کیا درست ہے، what is right، اور کیا نا درست، what is wrong۔ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کیا ممکن ہے، what is possible، اور کیا ممکن نہیں ہے، what is impossible۔ یہ بے حد اہم بات ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اس اصول کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی اکثر ناکامیاں اسی لیے پیش آئی ہیں کہ انہوں نے ممکن اور ناممکن کے اعتبار سے معاملے کو نہیں دیکھا، بلکہ اس کو صرف درست اور نا درست کے اعتبار سے دیکھا۔ اور پھر جو انہیں درست نظر آیا، اس کی طرف وہ فوراً دوڑ پڑے، حالانکہ حالات کے اعتبار سے اس کا حصول ان کے لیے ممکن ہی نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی بے نتیجہ قربانیاں تمام تر اسی اصول کو ترک کرنے کا نتیجہ ہیں۔

اس مہلک انجام کا واحد سبب تقلید ہے۔ انہوں نے مذکورہ حدیث کو البخاری کے ترجمہ باب کی بنا پر صرف فضائل مکہ کے اعتبار سے دیکھا، وہ اس کو حکمتِ حیات کے اصول کے طور پر اخذ نہ کر سکے۔ وہ تقلید کے دائرے میں بند ہو کر رہ گئے۔ وہ اجتہاد کی اگلی منزلیں طے نہ کر سکے، جس کے بغیر ترقی کا سفر ممکن ہی نہیں۔

کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 12۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.