← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Ihteraam-e-insaniyat.
Urdu · 6 min
احترامِ انسانیت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ مختلف راویوں کے ذریعے حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ صحیح البخاری میں یہ واقعہ اس طرح ہے کہ مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازے کو دیکھ کر اس کے احترام میں آپ کھڑے ہو گئے۔
آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی کھڑے ہو گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا، یعنی وہ مسلمان کا جنازہ نہ تھا۔ آپ نے فرمایا: أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟ فتح الباری جلد 3 صفحہ 214۔
یعنی کیا وہ انسان نہیں؟ امام البخاری کا یہ ایک عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے لاکھوں حدیثیں جمع کیں، پھر غیر معمولی محنت کے ذریعے مقررات سمیت ان میں سے 7563 حدیثیں منتخب کیں، اور وہ قیمتی مجموعۂ احادیث تیار کیا جو صحیح البخاری کے نام سے ہمارے پاس موجود ہے، اور جس کو "اصح الکتب بعد کتاب اللہ" کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے امام البخاری کا کارنامہ اتنا عظیم ہے کہ شاید اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ لیکن بعد کی نسلوں کو یہیں رک جانا نہیں ہے، بلکہ اور آگے بڑھنا ہے۔
مثلاً امام البخاری نے مذکورہ حدیث کو اپنے مجموعے میں "کتاب الجنائز" یعنی باب من قام الجنازة یہودیین کے تحت درج کیا ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ اپنی سوچ کو امام البخاری کے قائم کردہ ترجمۂ باب تک محدود کر لیں، تو وہ اس حدیث کو صرف جنازے کا ایک معاملہ سمجھیں گے، اور اس سے جنازے کے مسائل نکالنے پر اکتفا کریں گے۔ ان کا ذہنی سفر اس حدیث کے تعلق سے مسئلہ جنازے سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔ اس کے بعد دوسرا گروہ شارحین کا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، احادیث کی شرحیں کثرت سے لکھی گئیں۔ ان شارحین نے حدیث اور روایت کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی بحثیں کی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بے حد ضروری مواد فراہم کیا ہے۔ یہ مواد بے حد اہم ہے۔
اس سے حدیث کی مختلف جہتیں معلوم ہوتی ہیں، جو حدیث کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے بلاشبہ ضروری ہیں۔ لیکن اگر بعد کے لوگ حدیث کی ان شرحوں کو حرفِ آخر قرار دے دیں، تو پیغمبر اسلام کی احادیث پر مزید غور و فکر کا عمل رک جائے گا۔ لیکن اگر بعد کے لوگ حدیث کی ان شرحوں کو حرفِ آخر قرار دے دیں، تو پیغمبر اسلام کی احادیث پر مزید غور و فکر کا عمل رک جائے گا، اور یہ فکری ارتقاء کے اعتبار سے بہت بڑے نقصان کا باعث ہوگا۔ مثلاً مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے مختلف علماء نے اس کا جو مفہوم بتایا ہے، اس میں حدیث کا ایک اہم پہلو بیان ہونے سے رہ گیا۔
ان مختلف اقوال کو ابن حجر العسقلانی اور دوسرے شارحین حدیث کے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق کسی شارح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا سبب ملائکہ کو بتایا ہے۔ کسی نے لکھا ہے کہ آپ نے کراہتِ بخور یعنی دھونی کے لیے ایسا کیا۔ کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایسا کیا تھا، مگر اب یہ عمل منسوخ ہو چکا ہے۔
فتح الباری جلد 3 صفحہ 215 تا 216۔ ایک قول کے مطابق آپ نے اس کو پسند نہیں کیا کہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے گزرے، اس لیے آپ کھڑے ہو گئے۔ وَكَرِهَ أَنْ تَعْلُو وَرَأْسَهُ جَنَازَةُ يَهُودِيِّينَ فَقَامَ حدیث کی یہ تمام شرحیں علمی اور اصولی اعتبار سے درست نہیں۔ یہ تمام شرحیں ذاتی قیاس پر مبنی ہیں، نہ کہ کسی واقعی علمی دلیل پر۔
حدیث کا ظاہری متن واضح طور پر بتاتا ہے کہ آپ نے اس یہودی کو انسان کی حیثیت سے دیکھا، اور بحیثیت انسان آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ یہ حدیث اپنے متن کے مطابق احترامِ انسانیت کی ایک عظیم مثال ہے۔ اب اس معاملے کو موجودہ زمانے کی نسبت سے دیکھیے۔ موجودہ زمانے میں اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں احترامِ مسلم تو ہے، مگر اس میں احترامِ انسانیت نہیں۔
یہ اعتراض بلاشبہ غلط ہے۔ قرآن و حدیث کے مختلف حوالوں سے اس کی تردید کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں بلاشبہ ایک اہم حوالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ واقعے میں ملتا ہے۔ اس کو لے کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام میں انسان کا احترام کامل درجے میں موجود ہے۔
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان جس کو خدا نے پیدا کیا ہے، وہ ہر حال میں قابلِ احترام ہے، خواہ وہ اپنے مذہب کا ہو یا غیر مذہب کا، خواہ وہ ایک قوم سے تعلق رکھتا ہو یا دوسری قوم سے۔ حتیٰ کہ اگر وہ بظاہر دشمن قوم کا فرد ہو، تب بھی انسان کی حیثیت سے اس کا احترام کیا جائے گا۔ جبکہ مذکورہ شرح کی صورت میں اسلامی تعلیم کا یہ اہم اصول اوجھل ہو جاتا ہے۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 10۔