نفاذِ احکام میں تدریج۔ صحیح البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قرآن میں پہلے جو کلام اترا وہ اس کی مفصل سورتیں تھیں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا، یہاں تک کہ جب لوگوں کے دل اسلام پر مطمئن ہو گئے تو اس کے بعد حلال و حرام کی آیتیں اتریں۔ اس کے بعد حضرت عائشہ کہتی ہیں: وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلُ شَيْءٍ لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ لَقَالُوا لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا وَلَوْ نَزَلَ لَا تَزْنُوا لَقَالُوا لَا نَدَعُ الزِّنَاءَ أَبَدًا فتح الباری، جلد 8، صفحہ 655۔ یعنی اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ شراب نہ پیو تو ضرور لوگ یہ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے، اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ زنا نہ کرو تو ضرور لوگ یہ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے۔
امام بخاری نے اس روایت کو اپنی صحیح میں کتاب الفضائل القرآن یعنی باب تالیف القرآن کے تحت درج کیا ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ حضرت عائشہ کی اس روایت کا مطالعہ صرف امام بخاری کے ترجمہ باب کے تحت کریں تو وہ اس سے صرف فضائل قرآن یا تالیف قرآن کے مسائل اخذ کریں گے، اس سے زیادہ کوئی اور چیز انہیں اس روایت میں نہ مل سکے گی۔ حالانکہ اگر غور و فکر کے سفر کو بخاری کے ترجمہ باب پر روکا نہ جائے بلکہ اس کو مزید آگے جاری رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس روایت میں اسلام کا ایک نہایت اہم مسئلہ بیان ہوا ہے۔ اس روایت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز جس کو تطبیق شریعت یا نفاذ شریعت کہا جاتا ہے، اس کے لیے ایک حکمت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔
یہ حکمت تدریجی عمل یعنی گریجول پروسیس کی حکمت ہے۔ اسلام کے دورِ اول میں شرعی قانون کا نفاذ ایک تدریجی حکمت کے تحت کیا گیا۔ وہ حکمت یہ تھی کہ پہلے لوگوں کے دلوں میں اطاعتِ احکام کی آمادگی پیدا کی جائے، اور جب یہ داخلی آمادگی پیدا ہو جائے تو اس کے بعد خارجی احکام کا نفاذ کیا جائے۔ اس روشنی میں موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحیح البخاری کی مذکورہ حدیث کو بس اس کے ترجمہ باب کے تحت پڑھتے رہے، وہ ترجمہ باب سے آگے بڑھ کر اس پر غور نہ کر سکے۔
اس تقلیدی طرز فکر کا نقصان یہ ہوا کہ وہ اسلام کی اس اہم حکمتِ تدریج کو سمجھنے سے قاصر رہے جو اس حدیث میں بتائی گئی تھی۔ موجودہ زمانے میں اکثر مسلم ملکوں میں لمبی مدت سے تطبیق شریعت یا نفاذ شریعت کے نعروں کا شور سنائی دے رہا ہے، مثلاً مصر، پاکستان، ایران، سوڈان، افغانستان، الجزائر، انڈونیشیا، نائجیریا، بنگلہ دیش وغیرہ وغیرہ۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود کسی بھی مسلم ملک میں اب تک شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں نہ آ سکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں طولِ امد، سورہ الحدید آیت 16 کے نتیجے میں ضعفِ ایمان پیدا ہو چکا تھا۔
ان کے اندر وہ ذہنی موافقت اور قلبی آمادگی باقی نہیں رہی تھی جو شرعی احکام کو عملی طور پر قبول کرنے کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ ان کا حال مذکورہ روایت کے مطابق یہ ہو گیا تھا کہ جب ان کو خمر اور زنا کے احکام کا مخاطب بنایا جائے تو وہ کہہ دیں گے: لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا وَلَا نَدَعُ الزِّنَاءَ أَبَدًا مثال کے طور پر اکثر مسلم ملکوں میں پرجوش مسلم رہنماؤں نے یہ کیا کہ میڈیا کو اسلامائز کرنے کے لیے ٹی وی کے نظام پر قبضہ کیا اور پھر اس کے ذریعے اسلامی پروگرام دکھانا شروع کر دیا، لیکن وہ عملاً مکمل طور پر بے فائدہ رہا۔ کیونکہ مسلم گھروں میں ٹی وی سیٹ پر جب یہ اسلامی پروگرام آتے تو گھر والے اس کو دیکھتے ہی نہ تھے، وہ اس وقت ٹی وی سیٹ کی سوئی گھما کر دوسرا کوئی تفریحی پروگرام دیکھنے لگتے۔ نفاذِ شریعت کی ہنگامہ خیز کوششوں کے باوجود اس کی مکمل ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں میں اجتہادی فکر موجود نہ تھی، وہ صرف تقلیدی فکر کا سرمایہ لے کر میدانِ سیاست میں کود پڑے۔
اس قسم کے تقلیدی فکر کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو عملاً پیش آیا۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.