Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Irteqa pizir marifat.

Urdu · 3 min

ارتقاء پذیر معرفت۔ ایک مغربی مبصر نے لکھا ہے کہ ہر دن صبح کو جب سورج کی پہلی کرن تمہارے کمرے میں داخل ہو، تو تم اچھل کر بستر سے اٹھو اور کہو کہ ایک اور نئی شاندار صبح۔ Wonderful, what a new bright sun. خدا جو سورج کا خالق ہے، اس کی معرفت بلاشبہ سورج سے بے شمار گنا زیادہ ہے۔

جس انسان کو خدا کی دریافت ہو جائے، وہ ہر صبح و شام خدا کی نئی تجلی کو دریافت کرے گا۔ اس کی معرفتِ خدا ربانی تجلیات کا ایک لامتناہی سفر بن جائے گی۔ معرفت پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں ہے؛ معرفت درخت کی مانند ایک نمو پذیر چیز ہے۔ ایک چھوٹا سا بیج بڑھتے بڑھتے ایک سرسبز درخت بن جاتا ہے۔

یہی معاملہ معرفت کا بھی ہے۔ معرفت کا آغاز اقرارِ ایمان سے ہوتا ہے، اس کے بعد مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعے یہ اقرارِ ایمان ترقی کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ معرفت کا ایک ہرا بھرا درخت، بلکہ معرفت کا ایک پورا باغ بن جاتا ہے۔ معرفت کے ارتقاء کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے، آدمی کی موت سے پہلے وہ ختم نہیں ہوتا۔ معرفت خدا کے اعلیٰ، Wonders of God، کی دریافت کا نام ہے۔

خدا کے اعلیٰ بے شمار ہیں، اس لیے خدا کی معرفت بھی ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ ہمیشہ نئی نئی دریافتوں کے ذریعے یہ سفر مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ موت اس سفر کا خاتمہ نہیں۔ موت کے بعد اہلِ ایمان کے لیے معرفت کا سفر مزید اضافے کے ساتھ جاری رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اہلِ جنت کے لیے سب سے زیادہ لذیذ تجربہ یہی ہوگا کہ وہ معرفت کے باغوں میں جئیں، وہ معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتے رہیں۔ یہی بلاشبہ جنت کا سب سے زیادہ لذیذ عطیہ ہوگا۔ کتاب "معرفتِ الہی" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 54۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.