وجد اور معرفت کا فرق: وجد یعنی ایکسٹسی، اور معرفت یعنی ریئلائزیشن؛ دونوں بظاہر مشابہ، یعنی سِمِلر الفاظ ہیں، مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ اسلامی صفت ہے، مگر وجد کا اسلام سے کوئی لازمی تعلق نہیں۔ وجد کا تجربہ کسی بھی شخص کو ہو سکتا ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ وجد کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ رقص و سرود جیسی چیزیں بھی آدمی کے اندر وجد پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
معرفت کا تعلق شعوری دریافت سے ہے: جب ایک شخص غور و فکر کے ذریعے اپنے خالق کو دریافت کرتا ہے تو اس کو فکر کی سطح پر ایک ربانی دریافت ہوتی ہے، اسی کو معرفت کہا جاتا ہے۔ معرفت کو دوسرے الفاظ میں ذہنی ارتقاء، یعنی انٹلیکچول ڈیولپمنٹ، کہا جا سکتا ہے۔ ذہنی ارتقاء اگر خالص فطری انداز میں ہو تو وہ لازماً آدمی کو اپنے خالق کی دریافت تک پہنچائے گا، اور خالق کی شعوری دریافت ہی کا دوسرا نام معرفت ہے۔ وجد یعنی ایکسٹسی اس کے برعکس کوئی شعوری چیز نہیں؛ وہ ایک کیفیاتی حالت ہے۔
اس قسم کی کیفیت مختلف چیزوں سے پیدا ہو سکتی ہے: مذہبی چیز سے بھی اور غیر مذہبی چیز سے بھی۔ معرفت آدمی کے اندر سوچ اور فکر کی صلاحیت کو جگاتی ہے، مگر وجد کے ذریعے صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ایک سرور کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ آدمی کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو بے فکری کی حالت میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ وجد کسی آدمی کو ایک مبہم قسم کا سرور تو ضرور دے سکتا ہے، لیکن وجد کسی آدمی کے اندر ذہنی اور روحانی ارتقاء کی صفت پیدا نہیں کر سکتا۔
معرفت کسی آدمی کے اندر فکری بیداری پیدا کر کے اس کو اپنے رب سے ملا دیتی ہے، جبکہ وجد کسی آدمی کو صرف اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ میں گم رہے، وہ اپنے سے باہر کسی حقیقت کا ادراک نہ کر سکے۔ معرفت کسی آدمی کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ وجد آدمی کو بے خبری کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں۔ معرفت ایک شعوری واقعہ ہے، اور وجد صرف ایک وجدانی کیفیت۔ کتاب "معرفت الہی"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 56۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.