Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Marifat ki raushni.

Urdu · 2 min

معرفت کی روشنی۔ آپ کے آفس میں ٹیوب لائٹ ہے، لیکن اس کا کنکشن پاور ہاؤس سے قائم نہیں ہوا ہے، تو آپ کی ٹیوب لائٹ میں کوئی روشنی نہیں ہوگی، وہ بے نور پڑی رہے گی۔ لیکن جب اس کا کنکشن پاور ہاؤس سے قائم ہو، تو اچانک وہ روشن ہو جاتی ہے۔ یہ مادی واقعہ اس روحانی حقیقت کی مثال ہے جس کو معرفت یعنی ریالائزیشن کہا جاتا ہے۔

خدا اور بندے کے درمیان اگر ربط قائم نہ ہو، تو اس کا وجود معرفت سے بے بہرہ رہے گا۔ لیکن جب خدا اور بندے کے درمیان ربط قائم ہو جائے، تو اس کے بعد اچانک ایسا ہوتا ہے کہ بندے کا دل و دماغ معرفت کی روشنی سے منور ہو جاتا ہے۔ خدا کے تخلیقی نقشہ، کرییشن پلان آف گاڈ، کے مطابق انسان کی حیثیت اس دنیا میں پانے والے، یعنی ٹیکر کی ہے۔ اس کے مقابلے میں خدا کی حیثیت دینے والے، یعنی گیور کی ہے۔

انسان ہر اعتبار سے ایک محتاج مخلوق ہے۔ وہ اپنی کسی بھی حاجت کو خود سے پورا نہیں کر سکتا۔ یہ صرف خدا ہے جو اس کی تمام حاجتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ انسانی شخصیت کا یہ احتیاطی پہلو انسان کو مسلسل طور پر فقدان کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے۔

یہ احساس فقدان، انسانی شخصیت کا ایک ایسا لازمی حصہ ہے جو کبھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔ جو آدمی شعوری طور پر اس فقدان سے باخبر ہو جائے، وہ متلاشی یعنی سیکر بن جاتا ہے۔ اور جو آدمی اپنی ذات کے اس فقدان سے باخبر نہ ہو، وہ ہمیشہ محرومی کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ خدا کی معرفت انسان کی اسی تخلیقی کمی کا جواب ہے۔

خدا کی معرفت کے سوا کوئی اور چیز انسان کی اس کمی کو پورا کرنے والی نہیں۔ جس طرح بلب پاور ہاؤس سے کنکشن کے بغیر روشن نہیں ہوتا، اسی طرح معرفت کے بغیر کسی انسان کی زندگی ایک بے نور زندگی ہوتی ہے۔ کوئی اور چیز اس کی شخصیت کو منور کرنے والی نہیں۔ کتاب "معرفت الہی"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 53۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.