Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Marifat ka sada farmula.

Urdu · 2 min

معرفت کا سادہ فارمولا: خلیفہ چہارم علی ابن ابی طالب کا قول ہے: "عرفت ربي بفسق العزائم" "میں نے اپنے رب کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا"۔ یہ معرفت کا ایک ایسا فارمولا ہے جو ہر آدمی کو ہر وقت حاصل رہتا ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کو روزانہ ایسے تجربات ہوتے ہیں جبکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جو چاہا تھا وہ نہیں ہوا۔ کبھی چھوٹا تجربہ اور کبھی بڑا تجربہ۔

ایسا ہر تجربہ آدمی کو اس کی محدودیت، لیمیٹیشن، یاد دلاتا ہے۔ ایسا ہر تجربہ آدمی کو بتاتا ہے کہ چاہنا اس کے اختیار میں ہے، لیکن اپنے چاہنے کو تکمیل تک پہنچانا اس کے اختیار میں نہیں۔ جب بھی آدمی کا ارادہ پورا نہیں ہوتا تو یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہوتی ہے کہ انسان کی ایک حد، لِمٹ ہے۔ جہاں آدمی کی حد آ جائے، اس کو فوراً محسوس کرنا چاہیے کہ اس کے بعد خدا کی حد شروع ہو گئی، خواہ وہ ایک چھوٹا واقعہ ہو۔

مثلاً کسی چیز کا ہاتھ سے چھوٹ کر گرنا، یا کوئی بڑا واقعہ، مثلاً کسی منصوبے کا اپنی خواہش کے مطابق پورا نہ ہونا۔ اگر آدمی کے اندر شعوری بیداری، انٹلیکچول اوییکننگ، آ چکی ہو تو ایسے ہر موقع پر وہ خدا کو دریافت کرے گا۔ ایسا ہر موقع اس کے لیے خدا کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا۔ یہ ایک سادہ طریقہ ہے جس کے ذریعے آدمی ہر وقت معرفت کی غذا لے سکتا ہے، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ۔

خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سند یافتہ ہو یا غیر سند یافتہ۔ اس قسم کا تجربہ ہر عورت اور مرد کو روزانہ بار بار پیش آتا ہے۔ اگر آدمی اپنے ذہن کو کھلا رکھے، اگر اس کے اندر غور و فکر کی صلاحیت زندہ ہو، تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی، ڈیلی لائف میں ہر لمحہ، معرفت کی خوراک حاصل کرتا رہے گا۔ اس کے دل و دماغ میں معرفت کا سرچشمہ مسلسل طور پر جاری رہے گا۔

کتاب "معرفت الہی" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.