ایک صحابی کی مثال: مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ اپنی بیماری میں روئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اے ابوہریرہ، کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں تمہاری اس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زادِ راہ کم ہے۔ میں نے ایک ایسے ٹیلے پر صبح کی ہے جو جنت اور جہنم کی طرف اتر رہا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ مجھ کو ان دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا۔ بَکَا أَبُو حُرَيْرَةَ فِي مَرَضِهِ فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا حُرَيْرَةَ قَالَ: أَمَا أَنَّنِي فَلَا أَبْكِي عَلَى دُنْيَاكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنِّي أَبْكِي لِبُعْدِ سَفَرِي وَقِلَّةِ ذَاتِي. أَسْبَحْتُ فِي سُعُودٍ مُهْبِطَةٍ عَلَى جَنَّةٍ وَنَارٍ فَلَا أَدْرِي إِلَى أَيِّهَا يُسْلَكُ بِي. الطبقات الکبریٰ، لابن سعد، رقم الأثر 5699۔
صحابیِ رسول حضرت ابوہریرہ کا یہ کلمہ اعلیٰ معرفت کا کلمہ ہے۔ جب انسان کی معرفت بڑھتی ہے تو اس وقت اس کا حال وہی ہو جاتا ہے جس کی ایک مثال صحابیِ رسول کے مذکورہ قول میں ملتی ہے: اعلیٰ معرفت کیا ہے؟ اعلیٰ معرفت یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اس کی عظمت و جلال کے ساتھ دریافت کر لے۔ جب کوئی انسان اللہ کو اس کی عظمت و جلال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کی نظر میں اس کا اپنا وجود بالکل حقیر بن جاتا ہے۔
وہ جنت کے مقابلے میں اپنے اعمال کو بے حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کے پاس خدا کے دربار میں پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ یہی احساس اس کو اس آخری حد تک پہنچا دیتا ہے جس کی تصویر حضرت ابوہریرہ کے مذکورہ قول میں نظر آتی ہے۔ ایک طرف اللہ کا ارحم الراحمین ہونا اس کے اندر امید کا جذبہ پیدا کرتا ہے، دوسری طرف اپنے عمل کی بے بضاعتِی کو دیکھ کر وہ اس احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میں کسی بھی انعام کا مستحق نہیں۔
بے حس انسان صرف اپنے پلس پوائنٹ کو دیکھتا ہے، اور حساس انسان کو صرف اپنا مائنس پوائنٹ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو عارف انسان کو غیر عارف انسان سے الگ کرتا ہے۔ کتاب معرفتِ الہی، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 36۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.