Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Taziyati jalsey ek bid'at.

Urdu · 2 min

تعزیتی جلسے ایک بدعت نہیں، آج کل عام طور پر یہ رواج ہے کہ جب کوئی بڑا شخص مرتا ہے تو تعزیت کے نام پر جلسے کیے جاتے ہیں، اور تعزیتی بیانات اخباروں میں چھپوائے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ بلاشبہ ایک بدعت ہے۔ اس قسم کی تعزیت کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں؛ یہ محض ایک مظاہرہ ہے، نہ کہ کوئی اسلامی عمل۔ اس طریقے کے بدعت ہونے کا یقینی ثبوت یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں تعزیتی دھوم کا ایسا کوئی واقعہ ثابت نہیں۔

موت کے بارے میں اسلام کا طریقہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ دوسرے کی موت کو دیکھ کر اپنی موت کو یاد کیا جائے، اور اپنی تنہائیوں میں خدا سے اپنے لیے اور مرنے والے کے لیے دعائیں کی جائیں۔ موت کا واقعہ خدا کی طرف سے ایک یاد دہانی ہے۔ یہ یاد دہانی کہ جس طرح ایک شخص کی موت ہوئی ہے، اسی طرح دوسرے تمام مردوں اور تمام عورتوں کی موت واقع ہوگی۔

موت کے واقعے کو اسی یاد دہانی کے اعتبار سے لینا چاہیے، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ دوسرے تمام طریقے جو آج کل مسلمانوں میں رائج ہیں، وہ سب کے سب بدعت ہیں۔ اور بدعت بلاشبہ صرف ایک ذلالت ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی فعل۔ کسی بڑے انسان کی موت کے بعد جو تعزیتی جلسے کیے جاتے ہیں یا تعزیتی بیانات جاری ہوتے ہیں، ان میں صرف مرنے والے کا تعریفی تذکرہ کیا جاتا ہے، نہ کہ موت کا تذکرہ۔

حالانکہ ایسے موقع پر اصل ضرورت یہ ہے کہ موت کو یاد کیا جائے، موت کے بارے میں اپنے شعور کو زندہ کیا جائے، موت کے بعد پیش آنے والے حساب و کتاب کو سوچ کر خدا سے دعائیں کی جائیں۔ کتاب "آخرت کا سفر"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.