Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Ma'rifat ek khudai atiyyah

Urdu · 3 min

معرفتِ خدائی عطیہ: انسان بے شمار چیزوں کا ضرورت مند ہے، مگر ان ضرورت کی چیزوں میں سے کوئی بھی چیز وہ خود سے پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ تمام چیزیں خدا کی طرف سے انسان کو ایک طرفہ عطیہ، یعنی لٹرل گفٹ، کے طور پر ملتی ہیں۔ خدا اگر یہ عطیہ نہ دے تو انسان آخری حد تک تباہ ہو کر رہ جائے۔ انسانی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جہاں سے معرفتِ رب کا آغاز ہوتا ہے۔

کوئی انسان جب اپنی اس حیثیت کو شعوری طور پر دریافت کرتا ہے تو وہ خدائی فیضان کا وعاء، یعنی کنٹینر، بن جاتا ہے۔ کسی انسان کے اندر اس قسم کے شعور کا پیدا ہونا، خدا کے ساتھ اس کی صحیح نسبت کا قائم ہو جانا ہے۔ جب کسی انسان کو یہ نسبت حاصل ہو جائے تو اس کے بعد وہ مسلسل طور پر خدائی فیضان، ڈیوائن انسپیریشن، پانے لگتا ہے۔ ایسے انسان کے اندر معرفتِ رب کا عمل، پراسیس، جاری ہو جاتا ہے۔

اگر آدمی اپنی طرف سے کوئی منفی سبب پیدا نہ کرے تو معرفت کا یہ عمل اس کے اندر برابر جاری رہے گا۔ اس کی معرفت مسلسل ترقی کرتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ اپنے حدِ کمال کو پہنچ جائے۔ معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی عطیہ، ڈیوائن گفٹ ہے۔ دنیا میں جس انسان کو معرفت کا عطیہ ملا، وہی وہ انسان ہے جو آخرت میں جنت کے عطیے کا مستحق قرار پائے گا۔

معرفت گویا کہ کسی انسان کے لیے خدا کا دنیاوی انعام ہے، اور جنت کسی انسان کے لیے خدا کا اخروی انعام۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت سچائی کی سیٹ سورہ نمبر 54 آیت 55 پر ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ جو چیز کسی انسان کو جنت کے لیے غیر مستحق بناتی ہے، وہ کذب، یعنی جھوٹ ہے۔ کذبِ جلی بھی اور کذبِ خفی بھی۔

جو آدمی اپنے آپ کو ہر قسم کے کذب سے بچائے، وہی وہ انسان ہے جو جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے گا۔ معرفت آدمی کو سچا انسان بناتی ہے، اور سچائی انسان کو جنت تک پہنچانے کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ کتاب معرفتِ الہی، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 12۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.