Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Marifat ka khazaana.

Urdu · 3 min

معرفت کا خزانہ قرآن میں کلمۃ اللہ سورہ نمبر 31 آیت 27 کا ذکر ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ان کلمات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کی گنتی کی جائے تو ان کی گنتی کبھی ختم نہ ہو۔ یہ کلمۃ اللہ کیا ہیں؟ یہ کوئی مبہم چیز نہیں، اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو اسرارِ کائنات، mysteries of the universe کہا جاتا ہے۔

جدید سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے انہی کلماتِ الٰہی کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ جدید سائنس کی تاریخ تقریباً 500 سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس دوران سائنسدانوں نے قوانینِ فطرت کے اعتبار سے بے شمار چیزیں دریافت کی ہیں۔ دوربین، ٹیلیسکوپ اور خردبین مائیکروسکوپ کی ایجاد نے ان دریافتوں کا دائرہ بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اپنی نوعیت کے اعتبار سے معرفت کا علم ہے۔ اس نے اہلِ ایمان کے لیے معرفت کا ایک عظیم خزانہ کھول دیا ہے۔ یہاں سائنس سے مراد ٹیکنیکل سائنس نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد پاپولر سائنس ہے۔ پاپولر سائنس کے موضوع پر ہر زبان میں کتابیں موجود ہیں۔

یہ کتابیں آسان زبان میں ہوتی ہیں اور ہر آدمی ان کو پڑھ کر سمجھ سکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معرفت کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ تخلیقِ خداوندی میں غور و فکر کرنا ہے۔ غور و فکر کے لیے ہمیشہ معاون ڈیٹا، سپورٹنگ ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ سائنس کے ظہور سے پہلے اس معاملے میں صرف محدود ڈیٹا دستیاب تھا۔

اب سائنس نے طالبِ معرفت کے لیے لامحدود ڈیٹا کی عظیم لائبریری فراہم کر دی ہے۔ اب طالبِ معرفت کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اپنے سفرِ معرفت کو لامتناہی طور پر، endlessly جاری رکھے۔ وہ ہر لمحہ معرفتِ رب کی غذا حاصل کرتا رہے۔ اس کے اندر روحانی ارتقاء کا عمل، process، مسلسل طور پر جاری رہے۔

روحانی ارتقاء کا یہ عمل موت سے پہلے ایک لمحے کے لیے بھی ختم نہ ہو۔ کتاب: معرفتِ الٰہی، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 11۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.